ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب چاہے تو روس یوکرین جنگ ایک دن میں ختم ہوسکتی ہے ۔
وہ ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کررہے تھے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم ( اوپیک) سمیت دیگر ممالک سے تیل کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قیمتیں کم کرنے سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ’’ وہ حیران ہیں کہ ان کے انتخاب سے پہلے ایسا نہیں ہوا۔میں سعودی عرب اور اوپیک سے تیل کی قیمت کو کم کرنے کے لیے بھی کہوں گا۔ آپ کو اسے نیچے لانا ہوگا۔ان کے ایسا نہ کرنے سے میں قدرے حیران ہوا کہ اگر قیمت کم ہوئی تو روس اور یوکرین جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔’’
تیل کی قیمتوں کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کم کی جائے۔ ان کے مطابق اوپیک ممالک یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے ایک حد تک ذمہ دار ہیں۔
’’ابھی، قیمت اتنی زیادہ ہے کہ جنگ جاری رہے گی۔ آپ کو تیل کی قیمت کو نیچے لانا ہوگا، آپ کو اس جنگ کو ختم کرنا ہوگا۔ انہیں یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے وہ ایک حد تک بہت ذمہ دار ہیں۔ لاکھوں جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ، میں مطالبہ کروں گا کہ شرح سود فوری طور پر کم ہو اور اسی طرح انہیں پوری دنیا میں گرا دیا جائے،"
امریکا کے صدر کے طور پر اپنی پہلی بین الاقوامی نمائش میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیووس اکنامک فورم میں اپنی شرکت کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے 4 دنوں میں وہ کام کر دکھایا جو جو بائیڈن کی انتظامیہ 4 سالوں میں حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جو فیصلے انہوں نے 3 دن کے اندر جاری کیے ہیں ان کا ملک کی معیشت پر بہت مثبت اثر پڑے گا۔
غزہ معاہدے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اگر میری انتظامیہ نہ ہوتی تو اس ہفتے غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے نہ پاتا۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ امریکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے شرح سود میں فوری کمی کی درخواست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "میرا پیغام کاروباری برادری کے لیے ہے، اپنی مصنوعات امریکا میں بنائیں۔ " انہوں نے یہ بھی عہد کیا کہ کانگریس ملک کی تاریخ میں سب سے بڑی ٹیکس کٹوتیوں کو منظور کرے گی۔
دفاعی سطح پرٹرمپ نے کہا کہ وہ نیٹو ممالک سے دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے کے لیے کہیں گے۔ انہوں نے کہا امریکی سرحدوں کو محفوظ بنانے کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور فوجی دستے حملے کو پسپا کرنے کے لیے تعینات کردیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے تیل اور گیس کے وسائل سے فائدہ اٹھانا ملک کو عالمی سطح پر ایک صف اول کی پوزیشن میں کھڑا کر دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی کم قیمت یوکرین میں جنگ کے فوری خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
ٹرمپ نے عہد کیا کہ میری قیادت میں امریکا معاشی اور سلامتی کے لحاظ سے پھر مضبوط ہو جائے گا اور ہر سطح پر دوبارہ دنیا کی قیادت کرے گا۔ اپنے ملک میں امیگریشن کے معاملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسے ختم کر دیں گے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ انہوں نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے اور وہ غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے ممالک میں واپس بھیجیں گے۔ انہوں نے امیگریشن کو "حملہ" قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ میری انتظامیہ ہماری زمینوں کی خلاف ورزی نہیں ہونے دے گی اور امریکہ ایک سرکردہ اور خوبصورت ملک بن کر واپس آئے گا۔
یمن کے حوثی باغی ایک مرتبہ پھر دہشتگرد قرار:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یمن کے حوثیوں کو ایک بار پھر دہشتگرد گروپ قرار دے دیا۔ صدر ٹرمپ نے حوثی گروپ کو خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد حوثی گروپ پر دوبارہ انتہائی سخت پابندیاں عائد کرنا ہے۔ اس سے قبل صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے حوثی گروپ کو دہشت گرد گروپوں کی فہرست سے نکال دیا تھا۔