ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا وقت شروع ہوگیا ہے اور ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ کوئی فریق بھی سیز فائر کیخلاف ورزی نہ کرے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے جنگ بندی پر راضی ہونے کے اعلان پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا، ایران کے سرکاری ٹی وی نے جنگ بندی کے آغاز کی خبر نشر کر دی ہے جبکہ اسرائیلی میڈیا نے بھی جنگ بندی کے آغاز کی تصدیق کی ہے۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جنگ بندی اعلان کے بعد ایران میں شہری جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور خوشی کا اظہار کیا۔
ایرانی پریس ٹی وی کے مطابق اسرائیل پر 4 حملوں کے بعد جنگ بندی پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے، نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی جنگ بندی کے آغاز کی خبر نشر کر دی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے بھی جنگ بندی کے آغاز کی تصدیق کر دی ہے مگر نیتن یاہو ابھی تک خاموش ہیں، ان پر سکتہ طاری ہے۔
ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ پاکپور کافتح پر ملتِ اور شہدا کے اہلخانہ کو مبارکباد
ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ پاکپور نے کہا ہے کہ کامیابی اور فتح پر ملت ایران اور شہدا کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی تو منہ توڑ جواب ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ کامیابی اور فتح ملت ایران کے اتحاد اور شہدا کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
سیز فائر کا وقت شروع ہوگیا، براہ مہربانی خلاف ورزی نہ کریں، صدر ٹرمپ کی اپیل
امریکا کے صدر نے اپنے سوشل پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے، گزارش ہے جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ سب کو مبارک ہو، اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل پہلے اپنے جاری آخری مشن مکمل کریں گے جس کے بعد اگلے 6 گھنٹوں بعد جنگ بندی کا آغاز ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ باضابطہ طور پر جنگ بندی کا آغاز پہلے ایران کرے گا اور 12ویں گھنٹے پر اسرائیل بھی جنگ بندی شروع کردے گا جب کہ 24ویں گھنٹے پر 12 روزہ جنگ کے خاتمے کو دنیا بھر میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کے دوران دونوں فریق پرامن اور باعزت رویہ اختیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سب کچھ منصوبے کے مطابق چلے گا اور ایسا ہوتا ہے تو میں اسرائیل اور ایران دونوں کو ان کی ہمت، استقامت، اور دانشمندی پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ایسی جنگ کو ختم کیا جسے برسوں جاری رکھا جا سکتا تھا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ دنیا اور مشرق وسطیٰ فاتح ہیں، ایران اور اسرائیل کا مستقبل لامحدود ہے، دونوں کو بہت خوشحالی ملے گی، اگر یہ درست راستے سے ہٹ گئے تو بہت کھوئیں گے۔
امیر قطر کا امن کی کوششوں پر شکریہ: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اب اپنی کارروائی مکمل کرچکا ہے اور امید ہے کہ اب ایران امن کی جانب لوٹے گا، اسرائیل کو بھی امن کی جانب بڑھنے کی ترغیب دیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کا ردعمل بہت کمزور تھا، ایران کی طرف سے داغے گئے 14 میزائلوں میں سے 13 کو مار گرایا گیا ہے، کسی امریکی کو نقصان نہیں پہنچا اور ایران کے حملے میں بہت کم نقصان ہوا۔
ٹرمپ نے امریکا کو حملوں کے بارے میں جلد مطلع کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ ٹرمپ نے امن کی کوششوں پر امیر قطر کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ٹرمپ نے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایران میں ہم نے جن مقامات کو نشانہ بنایا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے، ہر کوئی اسے جانتا ہے، صرف جعلی خبریں ہی حالات کو کم از کم کرنے کی کوشش میں اس کے خلاف دعویٰ کریں گی، انہوں نے کہا کہ وہ تنصیبات بہت اچھی طرح سے تباہ ہو گئی ہیں۔!
ایران قطر کی ثالثی میں جنگ بندی پر راضی ہوا
سینئرایرانی عہدیدار کےمطابق ایران نےاسرائیل سےجنگ بندی کی تجویز کوقبول کرلیا، ایران قطرکی ثالثی میں جنگ بندی پر رضا مند ہوا۔
ذرائع کے مطابق ڈونلڈٹرمپ اورجےڈی وینس نےجنگ بندی کی تجویز پر قطری امیر سے بات کی، امریکی صدر نےکہا کہ اسرائیل جنگ بندی کیلئےمتفق ہے، امیرقطر سےکہا کہ ایران کو جنگ بندی پر راضی کرنے میں مدد کریں۔
قطری وزیراعظم نے فون کرکے جنگ بندی کے لیے ایران کی رضا مندی حاصل کی۔
جنگ بندی کے اعلان پر ایران میں جشن مناتے ہوئے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
یاد رہے کہ کل شب امریکا کے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے اسرائیل پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغ دیے جن میں خیبر بھی شامل ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے اسرائیل پر تازہ حملے میں ایک پاور پلانٹ تباہ ہوگیا اور متعدد علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے مختلف حملوں میں ایران کے 6 ہوائی اڈے اور متعدد طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکا نے اپنے جدید ترین B-2 بمبار طیاروں کے ساتھ ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا ہے اور امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے حملے میں فردو کے ایٹمی پلانٹ کو مکمل تباہ کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کی 3 ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا ہے، امریکی طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع ایرانی نیوکلیئر تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں حملے کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے تین جوہری سائٹس پر کامیاب حملہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فضائیہ نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر کامیاب حملہ کیا، جس میں فردو، نطنز اور اصفہان کے جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا گیا, حملے میں فردو ایٹمی پلانٹ مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
حملے کے دوران تمام طیارے ایران کی فضائی حدود سے باہر پہنچ چکے ہیں اور ان کی واپسی کا سفر کامیابی سے جاری ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فردو جوہری مرکز پر بموں کا مکمل پے لوڈ گرایا گیا، جس سے اس اہم جوہری سائٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی صدر نے اس کارروائی کو دنیا کی سب سے پیشہ ورانہ اور کامیاب فضائی کارروائی قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے فوجی ادارے کے پاس اس نوعیت کا آپریشن کرنے کی صلاحیت نہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ایک شاندار کامیابی ہے اور اس کا سہرا ہمارے بہادر امریکی فوجیوں کے سر ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم امن کی طرف قدم بڑھائیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران باز نہ آیا تو دوبارہ حملے کریں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ہر ایک امریکی شہری اور فوجی ہمارا ہدف ہیں، امریکی حملے پر ایران بھرپور جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے حملے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جبکہ مبینہ طور پر اس حملے میں بی-2 بمبار طیارے استعمال کیے گئے ہیں جو کہ گزشتہ روز ہی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈے پر پہنچا دیے گئے تھے۔