ویب ڈیسک: بھارت میں ’’عالمی طاقت‘‘ بننے کے دعوے دار حکمرانوں کے دور میں عام شہری بنیادی ضروریات کے لیے بھی ترسنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے ضلع گریابند میں راشن کی تقسیم کے دوران افراتفری، بھوک اور بدنظمی نے بھارت کے فلاحی نظام کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا۔
بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق’’راشن تقسیم کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد، بھارتی غریب عوام کا ضلع بھر کے راشن مراکز پر ہجوم ‘‘ چھتیس گڑھ کے ضلع گریابند کے وارڈ نمبر 3 میں اتوار کو ایک سرکاری راشن کی دکان پر افراتفری پھیل گئی، عوام کا طویل انتظار اور بڑھتی ہوئی مایوسی غصے میں بدل گئی، اناج کے لیے گھنٹوں انتظار کرنے والے ہجوم نے دکان کا مین گیٹ توڑ دیا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔
این ڈی ٹی وی کےمطابق مودی سرکار کی نا اہلی اور ناکافی انتظامات کی وجہ سے بہت سے آؤٹ لیٹس پر شدید بدانتظامی،صورتحال اس وقت خراب ہو گئی جب سیلز مین کی موجودگی کے باوجود دکان گھنٹوں بند رہی اور عوام کا غصہ بھڑکتا گیا اور خواتین، بوڑھے اور بچوں پر مشتمل ہجوم نے لوہے کا بند دروازہ زبردستی کھول دیا،بھگدڑ سے کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس طرح کی بد انتظامی اور افراتفری ہوئی ہو۔
ایک مقامی باشندے نے کہا کہ مسائل میں OTP کی تصدیق میں ناکامی، فنگر پرنٹ کی عدم مماثلت، اور بار بار سرور کی بندش شامل ہیں،ایک دن میں صرف 20 سے 25 لوگوں کو راشن مل رہا ہے،ضلع کے کئی راشن مراکز پر عوام کو اس طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔
مودی سرکار کا "ڈیجیٹل انڈیا" غریبوں کے لیے زحمت ثابت ہوا۔ مودی کے معاشی بیانیے کا اصل روپ چھتیس گڑھ میں پیش آنے والا یہ واقعہ ہے۔
چھتیس گڑھ میں پیش آنے والے واقعہ نے خواتین اور بزرگوں کی عزت نفس کو پامال کیا۔ مودی کے بھارت میں، اناج کے لیے غریب جنگ کرتا ہے جبکہ امیر دولت کا ذخیرہ کرتے ہیں۔
بھارت کا فلاحی نظام ڈیجیٹل بدانتظامی اور اشرافیہ کے تکبر کی بدولت تباہ ہو چکا ہے، بھارت میں گہری عدم مساوات، بڑھتی ہوئی غربت اور ریاستی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔