ایران کا 10 ایٹمی ہتھیار بنانے  کے قابل یورینیم کہاں گیا؟

 ایران کا 10 ایٹمی ہتھیار بنانے  کے قابل یورینیم کہاں گیا؟

(ویب ڈیسک ) ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تاہم، عالمی ماہرین اور تجزیہ کار اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کا وہ 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کہاں ہے جو 10 ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔

امریکا کی جانب سے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ تنصیبات مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ ایران نے حملے سے قبل یہ حساس مواد کسی اور خفیہ مقام پر منتقل کر دیا ہو۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی مئی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے پاس 408.6 کلوگرام ایسا یورینیم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا ہے۔ یہ مقدار فروری میں 133.8 کلوگرام تھی، یعنی صرف 3 ماہ میں اس میں نمایاں اضافہ ہوا۔

یاد رہے کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم کو تقریباً 90 فیصد تک افزودہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ 400 کلوگرام افزودہ یورینیم سے تقریباً 10 ایٹمی ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔

اب اہم سوال یہ ہے کہ امریکا کے حملوں کے بعد یہ یورینیم کہاں ہے؟ کیا ایران نے اسے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے، یا یہ واقعی تباہ ہو چکا ہے؟ فی الحال اس کا واضح جواب کسی کے پاس نہیں۔ 

کیا ایران نے امریکی حملوں سے پہلے افزودہ یورینیم منتقل کر دیا تھا؟

ایسا لگتا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں سے قبل چالاکی سے اپنا افزودہ یورینیم کسی خفیہ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ امریکی افواج نے ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات پر حملہ کیا، لیکن اطلاعات ہیں کہ ایران پہلے ہی اپنا قیمتی ذخیرہ بچا چکا تھا۔

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی سابق ایران ماہر، سیما شائن نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ وہ  اس بات پر قائل ہیں کہ ایران نے افزودہ مواد اور جدید سینٹری فیوجز خفیہ طور پر کسی اور مقام پر منتقل کر دیے تھے۔ اُن کے مطابق، " ایران کے پاس افزودہ یورینیم موجود ہے، اور وہ اسے محفوظ مقام پر لے گئے تاکہ مستقبل میں ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت برقرار رکھ سکیں۔ یہ کہنا درست نہیں کہ پروگرام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔"

دو دیگر اسرائیلی حکام نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ ایران نے حملے سے قبل اپنا یورینیم منتقل کر دیا تھا۔ حملے سے دو دن پہلے کی سیٹلائٹ تصاویر میں جوہری تنصیبات کے باہر بلڈوزر اور ٹرک کھڑے نظر آئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں سے سینٹری فیوجز یا حفاظتی سامان منتقل کیا جا رہا تھا۔

پولینڈ کی دفاعی تجزیہ کار کمپنی TS2 Space کے مطابق یہ سب کچھ ہنگامی بنیادوں پر کیا گیا۔ لندن کے اوپن سورس سینٹر نے بھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران تنصیبات کو ممکنہ حملے سے پہلے تیار کر رہا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہاں سے کیا کچھ نکالا گیا۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے حملوں سے ایک ہفتہ قبل آخری بار افزودہ یورینیم دیکھا تھا، اور ایران اس مواد کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسلحہ کنٹرول کی ماہر کیلسے ڈیوینپورٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ " ایران کا 60 فیصد افزودہ یورینیم چھوٹے کنستروں میں محفوظ ہوتا ہے جو آسانی سے کار میں لے جائے جا سکتے ہیں، اس لیے ان کا سراغ لگانا مشکل، بلکہ ناممکن ہو سکتا ہے۔"

ایران کے افزودہ یورینیم پر امریکی حکام کیا کہتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات "مکمل طور پر تباہ" کر دی گئی ہیں، لیکن ان کے حکام ایران کے گمشدہ یورینیم کے بارے میں کوئی واضح ثبوت یا تفصیل فراہم نہیں کر سکے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تسلیم کیا ہے کہ افزودہ یورینیم اب بھی ایران کے پاس ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اے بی سی کے پروگرام "دِس ویک" میں کہا کہ  "ہم آئندہ ہفتوں میں اس  معاملے پر  ہم ایرانیوں سے بات چیت کریں گے۔"

انہوں نے  یہ بھی کہا کہ ایران کی جوہری بم بنانے کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے کیونکہ اہم مشینری تباہ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی حملوں نے "شدید نقصان" پہنچایا ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ  "یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا ایران نے اپنا افزودہ یورینیم منتقل کرنے کی کوشش کی یا وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوا۔"  

ان کا کہنا تھا: "مجھے شک ہے کہ انہوں نے کچھ منتقل کیا ہو، کیونکہ اس وقت کچھ بھی ہلانا ممکن نہیں۔ جیسے ہی کوئی ٹرک حرکت کرتا، اسرائیلی اسے دیکھ کر نشانہ بنا لیتے۔

ایران کے جوہری عزائم کا کیا مطلب ہے؟

تو کیا ایران اب بھی جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہے؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران نے واقعی یورینیم کسی اور مقام پر منتقل کر دیا ہے، تو وہ اب بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسرائیلی انٹیلیجنس ماہر رونن سولومون نے ٹیلی گراف کو بتایا "یہ ایسا ہے جیسے آپ کے پاس ایندھن ہو لیکن گاڑی نہ ہو۔ یعنی یورینیم تو ہے، لیکن وہ اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتے جب تک کہ انہوں نے کوئی خفیہ چھوٹی تنصیب نہ بنا لی ہو۔"

دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کے سینٹری فیوجز — یعنی یورینیم کو افزودہ کرنے والی مشینیں — کی مکمل معلومات نہ ہوں، کچھ کہنا ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی و اسرائیلی حملوں میں نطنز کی کئی مشینیں تباہ کر دی گئی ہیں۔

تاہم اسلحہ کنٹرول ماہر کیلسے ڈیوینپورٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ "60 فیصد افزودہ یورینیم اور چند سو جدید سینٹری فیوجز کے ساتھ ایران اب بھی ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔"

سابق امریکی اہلکار رچرڈ نیفیو، جو اوباما اور بائیڈن کے ادوار میں ایران سے متعلق امور پر کام کر چکے ہیں، نے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ  "اصل مسئلہ مواد اور اس کی جگہ ہے۔ اب تک کی معلومات کی بنیاد پر ہمیں نہیں معلوم کہ وہ مواد کہاں ہے، اور نہ ہی ہمیں یہ اعتماد ہے کہ ہم جلد اس تک پہنچ سکیں گے۔"

Watch Live Public News