ویب ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر اپنے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو ذمہ دار قرار دے دیا۔
امریکی ریاست ٹینیسی میں ہونے والے ایک گول میز اجلاس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ فوجی کارروائی کی حمایت سب سے پہلے پیٹ ہیگستھ نے کی تھی۔ انہوں نے وزیر دفاع کی موجودگی میں کہا کہ “آپ ہی بتائیں، کیونکہ آپ نے ہی جنگ کا کہا تھا، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اس جنگ کے آغاز سے متعلق مختلف اور متضاد بیانیے سامنے آ رہے ہیں۔
کچھ حکام کے مطابق اسرائیل خود ایران پر حملہ کرنے والا تھا، جس کے باعث امریکا کی شمولیت ناگزیر ہو گئی، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے یا استعمال کرنے کے قریب تھا۔
ٹرمپ نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنرل کین سمیت دیگر اہم مشیروں سے مشاورت کی اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کا فیصلہ کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر دفاع کو ذمہ دار ٹھہرانے سے چند گھنٹے قبل ہی ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ خلیجی خطے میں ایران کے جوابی حملے ان کے لیے غیر متوقع تھے، جس سے حکومتی بیانیے میں تضاد مزید نمایاں ہو گیا ہے۔