ویب ڈیسک: امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سی این این کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی تقریر نہ صرف بے ربط تھی بلکہ اس میں متعدد متنازع اور غلط دعوے بھی شامل تھے، جنہیں ماہرین نے فوری طور پر چیلنج کیا۔
سی این این کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قابل تجدید توانائی (Renewable Energy) فوسل فیولز یعنی روایتی ایندھن کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے، جو کہ حقائق کے منافی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کی قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو چکی ہیں اور کئی ممالک میں یہ روایتی ایندھن سے بھی سستی پڑتی ہیں۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے اپنی پالیسیوں کو درست ثابت کرنے کے لیے گمراہ کن اعداد و شمار کا سہارا لیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران معاشی ترقی، امیگریشن کنٹرول اور عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے۔ سی این این کے مطابق ان میں سے کئی بیانات مبالغہ آرائی پر مبنی تھے یا انہیں سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی تنازعات کے بارے میں کوئی واضح خارجہ پالیسی پیش کرنے کے بجائے مختلف موضوعات کو ایک غیر مربوط انداز میں چھیڑا، جس سے تقریر کا کوئی مرکزی پیغام سامنے نہیں آیا۔
فلسطین کے معاملے پر صدر ٹرمپ کے مؤقف کو بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ان ممالک کے فیصلے پر نکتہ چینی کی جو حالیہ دنوں میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اسے ”حماس کے لیے انعام“ قرار دیا، جسے سی این این نے ایک پیچیدہ سفارتی مسئلے کو سادہ اور جانبدارانہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش قرار دیا۔
سی این این کے مطابق صدر ٹرمپ کی اس تقریر نے امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے شکوک و شبہات کو مزید گہرا کیا اور عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ موجودہ امریکی قیادت کسی واضح اور مستقل حکمت عملی کے بغیر عالمی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔