ویب ڈیسک: مقبوضہ جموں و کشمیر کے پُرفضا مقام پہلگام میں سیاحوں پر فائرنگ کے واقعے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین نے بھارتی حکومت اور سکیورٹی اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
منگل کے روز پیش آنے والے اس سانحے میں 26 سیاح جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو غیر ملکی اور بھارتی بحریہ کا ایک افسر بھی شامل تھا۔ واقعے کے بعد سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی ہے۔
مقتول کی بیوہ نے یونین منسٹر کو آڑے ہاتھوں لے لیا
گجرات کے سورت میں جب ایک مقتول بینکر کی میت پہنچی تو اس کی بیوہ نے تعزیت کے لیے آنے والے یونین منسٹر سی آر پاٹل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا:
“تم وی آئی پی ہو، تمہارے پاس گاڑیاں اور سیکیورٹی ہے، مگر عوام جو ٹیکس دیتی ہے، اس کی جان کی قیمت نہیں؟”
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے سیاحتی مقام پر نہ سکیورٹی اہلکار تھے، نہ ہی میڈیکل یونٹس، اگر کوئی ایمرجنسی ہوتی تو مدد کون کرتا؟
عینی شاہدین کے انکشافات
مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی ایک زخمی خاتون پارس جین نے دعویٰ کیا کہ حملے کے وقت فائرنگ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہی، لیکن کوئی سکیورٹی اہلکار مدد کو نہیں پہنچا۔
“ہمیں لگا کہ شاید ہم مر جائیں گے، کوئی بچانے نہیں آیا، کہاں ہے وہ نظام جس پر حکومت فخر کرتی ہے؟”
کشمیری عوام کا مؤقف: فالس فلیگ آپریشن
دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں عوام نے اس واقعے کو بھارت کا "فالس فلیگ آپریشن" قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جس مقام پر حملہ ہوا، وہاں سخت سکیورٹی ہوتی ہے، وہاں دہشت گرد کیسے پہنچ گئے؟
کشمیریوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ بھارتی حکومت کی سوچی سمجھی چال ہے تاکہ کشمیریوں کے درمیان پھوٹ ڈال کر خطے کو مزید غیر مستحکم کیا جائے۔
حکومتی ردعمل اور ہوٹل مالکان پر الزام
بھارتی حکومت نے اس واقعے کی ذمہ داری پہلگام کے ہوٹل مالکان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہوٹل والوں نے پولیس سے اجازت لیے بغیر سیاحوں کو ہائیکنگ کے لیے بھیجا تھا۔
تاہم، وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ“واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، علاقے میں سکیورٹی کا فقدان تھا، ہم ذمہ داری سے انکار نہیں کرتے۔”
کریک ڈاؤن: 1500 کشمیری گرفتار
ادھر، پہلگام واقعے کے بعد بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں سے اب تک 1500 سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں نے اس گرفتاری مہم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔