ٹرمپ ٹیرف کے عالمی تجارت اور معیشت پر اثرات

ٹرمپ ٹیرف کے عالمی تجارت اور معیشت پر اثرات
کیپشن: ٹرمپ پالیسیوں کے عالمی تجارت اور معیشت پر اثرات

ویب ڈیسک: ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں تجارتی پالیسیوں، خصوصاً نئے ٹیرف نے عالمی مالیاتی منڈیوں کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں بے یقینی اوراتار چڑھاؤ  کے باعث سرمایہ کار امریکی منڈیوں سے تیزی سے پیسہ نکال رہے ہیں، جس سے نہ صرف ایکویٹی ویلیوایشن دباؤ کا شکار ہوئی ہے بلکہ امریکی خزانے (یو ایس ٹریژریز) کی قیمتیں بھی گِر گئی ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی بی او ای کا وولیٹیلیٹی انڈیکس 50 کی سطح سے تجاوز کر گیا ہے جو کہ گزشتہ 5 سال میں اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔  جس سے واضح ہے کہ سرمایہ کار شدید دباؤ کا شکار ہے۔   سی بی او ای وولاٹیلیٹی انڈیکس، جو ایس اینڈ پی 500 کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو ماپتا ہے، کی بلند سطحیں مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال اور بے چینی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

کمپنیوں کی بے چینی اور ہنگامی اقدامات

متعدد عالمی کمپنیاں ٹرمپ کی طرف سے لگائے گئے ممکنہ ٹیرفس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایپل کے بھارتی سپلائرز نے مارچ میں 2 ارب ڈالر کے آئی فونز امریکا روانہ کیے تاکہ ٹیرفس کے نفاذ سے پہلے اسٹاک پہنچایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی کشیدگیاں بڑھتی رہیں تو مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ ٹرمپ کی "امریکا فرسٹ" پالیسیوں نے نہ صرف امریکی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ایس اینڈ پی  500 انڈٰکس اب تک تقریباً 11 فیصد گر چکا ہے۔  

ڈالر کی قدر میں تاریخی کمی

جنوری سے ڈالر 9 فیصد گر چکا ہے، جو 1971 میں گولڈ اسٹینڈرڈ کے خاتمے کے بعد کسی بھی سال کا بدترین آغاز ہے۔ اپریل میں ڈالر کی قدر میں مزید 4 فیصد کمی ہوئی ہے، جس کی بڑی وجہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول پر ٹرمپ کے زبانی حملے ہیں۔ جبکہ دیگر کرنسی، سوئس فرانک اور جاپانی ین دونوں نے ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز سے اب تک تقریباً 9 فیصد اضافہ دکھایا ہے۔

بانڈ ز مارکیٹ میں غیر متوقع ردعمل

امریکی اثاثوں کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت کو لاحق خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے، 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی پیداوارنے اس ماہ 20 سال سے زائد عرصے میں سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ دیکھا۔

سونے کی قیمت میں ریکارڈ  اضافہ

سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2024 میں فی اونس $3,500 تک پہنچ گیا ہے۔ جبکہ  23 اپریل تک ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے 21.4 فیصد بڑھ چکا ہے۔ کیونکہ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے بننے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد سے سرمایہ کار وں نے امریکی ٹریژری بانڈز سے سرمایہ نکال کر سونے میں لگایا گیا ہے، کیونکہ جب امریکی ڈالر کی قدر گرتی ہے تو سونا غیر امریکی خریداروں کے لیے سستا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔

عالمی معاشی بحران کا خطرہ بڑھ گیا

ٹیرف جیسی افراط زر کو بڑھانے والی پالیسیوں نے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی معیشت کوبحران  کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ جی پی مورگن کے مطابق امریکی اور عالمی بحران  کا امکان 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جب کہ گولڈمین ساکس نے اسے 45 فیصد بتایا ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں عالمی معیشت کی شرح نمو 2.3 فیصد تک محدود ہو سکتی ہے، جو 2024 کی 2.8 فیصد سے کم ہے۔ جبکہ عالمی تجارتی ادارہ نے عالمی تجارت کی شرح نمو کی پیش گوئی کو کمی میں بدل دیا ہے،

Watch Live Public News