ویب ڈیسک: ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر کی نا اہلیوں سے قومی خزانے کو 663 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں ایف بی آر میں بڑی خامیوں کے انکشافات ہوئے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ ٹیکسز میں تقریبا 644 ارب کا نقصان ہوا، کسٹمز اور اخراجات شعبے میں 19 ارب روپے سے زائد کے نقصان کی نشاندہی ہوئی۔ فیلڈ فارمیشنز میں بے ضابطگیوں کا اصل پیمانہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں قومی خزانے کو 457 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ سیلز ٹیکس کی مد میں 187 ارب، کسٹم کی مد میں 18 ارب 85 کروڑ کا نقصان۔
ایف بی آر ہیڈکوارٹر اور فیلڈ دفاتر کے اخراجات کی مد میں 52 کروڑ 40 لاکھ کا نقصان ہوا۔ 22 فیلڈ دفاتر 22 ارب 87 کروڑ کا کم از کم انکم ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہے۔
20 فیلڈ دفاتر تقریبا 168 ارب کا سپر ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہے۔ 18 فیلڈ دفاتر کی جانب سے کم انکم ٹیکس وصول کرنے کی وجہ سے 149 ارب کا نقصان ہوا۔ 19 فیلڈ دفاتر نے 45 ارب سے زائد کا ودہولڈنگ ٹیکس وصول نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے 16 فیلڈ دفاتر 62 ارب کی ٹیکس ڈیمانڈز وصول کرنے میں ناکام ہوئے۔ 19 فیلڈ دفاتر نے 6 ارب 79 کروڑ روپے کے ناقابل قبول ریفنڈز کی منظوری دی۔ ایف بی آر کے 6 فیلڈ دفاتر نے 15 کیسز میں 2 ارب 25 کروڑ کم ٹیکس وصول کیا۔
بلیک لسٹ ٹیکس دہندگان یا جعلی انوائسز کی نگرانی نہ ہونے سے 123 ارب کا نقصان ہوا۔ ٹیکس دہندگان نے فروخت چھپائی جس سے 36 ارب کے سیلز ٹیکس وصولی میں ناکامی ہوئی۔ 19 فیلڈ دفاتر 3 ارب 53 کروڑ کے جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج عائد کرنے میں ناکام ہوئے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ممکنہ ٹیکس دہندگان کو رجسٹر نہ کرنے سے 1 ارب 31 کروڑ کا نقصان ہوا۔ ضبط شدہ سامان اور گاڑیوں کو فروخت نہ کرنے کی وجہ سے 12 ارب 60 کروڑ کا نقصان ہوا۔ 22 فیلڈ دفاتر نے 48 کروڑ سے زائد کی نقد انعامات کی مد میں ناقابلِ قبول ادائیگیاں کیں۔ ایف بی آر نے پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 کروڑ کے اخراجات کیے۔