ویب ڈیسک: بھارت نے ایک روز کے دوران پاکستان سے دوسرا رابطہ کرتے ہوئے دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب کے خدشے سے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کر دی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن اسلام آباد نے وزارتِ خارجہ سے براہِ راست رابطہ کر کے یہ معلومات دیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو دریائے ستلج کے بڑھتے ہوئے پانی کے بارے میں آگاہ کیا، تاہم یہ معلومات سندھ طاس معاہدے کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فراہم نہیں کی گئیں۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو ایسی معلومات باقاعدہ طور پر انڈس واٹر کمشنر کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچانی ہوتی ہیں، لیکن بھارت نے اس بار سفارتی روابط کو استعمال کیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزارتِ خارجہ کو بھارتی ہائی کمیشن نے بریفنگ دی، جس کے بعد حکومت پاکستان نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت پاکستان کو سیلابی پانی سے متعلق آگاہی دیتا رہا ہے۔ چند روز پہلے بھارت نے دریائے توی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب کے بارے میں بھی پاکستان کو اطلاع دی تھی۔ اس طرح 24 گھنٹوں کے دوران یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت نے پاکستان کو ممکنہ خطرات سے متعلق پیغام دیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق مئی میں پاک بھارت کشیدگی اور جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان یہ پہلا بڑا رابطہ ہے، جسے مستقبل میں باہمی تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بھارت کا معلومات فراہم کرنے کا غیر رسمی طریقہ کار سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔