ویب ڈیسک: ساحر حسن نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے قصور ہیں اور انہیں غلط طور پر پھنسایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وہ اپنی عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔’حقیقت جلد سامنے آئے گی اور انصاف ہو گا۔ میں نے کوئی جرم نہیں کیا، اور میرے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔
ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کی پرورش ایک تعلیم یافتہ اور ثقافتی گھرانے میں ہوئی، لیکن حالیہ دنوں میں ان کا نام ایک خطرناک کیس میں سامنے آیا ہے۔
ان کے حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کافی عرصے سے کراچی کے پوش علاقوں میں منشیات کے کاروبار میں ملوث تھے، اور ان کے متعدد بااثر حلقوں سے تعلقات تھے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ نہ صرف منشیات خریدتے اور فروخت کرتے تھے بلکہ مرکزی ملزم ارمغان قریشی اور شیراز کے ساتھ بھی روابط رکھتے تھے، جو مصطفیٰ عامر کے قتل میں ملوث ہیں۔ گرفتار ہونے کے بعد پولیس نے ان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی غیر ملکی برانڈ کی منشیات برآمد کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ساحر حسن نے انکشاف کیا کہ وہ منشیات بازل اور یحییٰ نامی افراد سے حاصل کرتے تھے اور انہیں ڈیفنس، کلفٹن اور دیگر مہنگے علاقوں میں فروخت کرتے تھے۔ ان کا نیٹ ورک کافی وسیع تھا اور ان کے متعدد اہم شخصیات سے تعلقات تھے، جو منشیات کی خرید و فروخت میں ملوث تھے۔