ویب ڈیسک: مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جدوجہد زور پکڑنے لگی ہے، جبکہ مودی سرکار کی جانب سے سخت گیر اقدامات نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں عوامی نمائندوں کو گھروں میں نظر بند کرنے اور کشمیری شہداء کی توہین جیسے اقدامات نے بھارت کے ہندوتوا ایجنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
بھارتی اخبار دی وائر کے مطابق جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے 13 جولائی کو منتخب سرکاری عہدیداران بشمول وزیر اعلیٰ کو گھروں میں نظر بند کر دیا،حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور یوم شہداء کی سرکاری تعطیل ختم کر دی گئی تھی،1931 کا واقعہ کشمیری عوام کی خود مختار سیاسی اور آئینی تشخص کی نمائندگی کرتا ہے،بی جے پی کے اپوزیشن لیڈر نے 1931 میں ڈوگرہ حکمران کے ہاتھوں مارے گئے 22 افراد کو غدار قرار دیا،آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد، بی جے پی جلد از جلد جموں و کشمیر کو باقی ملک کے قوانین کے تحت ضم کرنے کی کوشش میں ہے۔
دی وائر کے مطابق لیفٹیننٹ گورنر کے آئینی طور پر مشکوک اقدامات جموں و کشمیر کے ساتھ دیگر ریاستوں کیلئے بھی باعث تشویش ہونے چاہئیں،بی جے پی کے اقدامات کا پہلا مسئلہ قوم پرست تاریخ اور شناخت کی یک جہتی کی سوچ سے جڑا ہے، بی جے پی مرکزی حکومت وفاقی اکائیوں پر اپنا تاریخی بیانیہ تھوپ رہی ہے،بی جے پی کا 1931 کے شہداء کو "غدار" کہنا کشمیری جدوجہد کو دبانے کوشش ہے۔
کشمیریوں کے یادگار دنوں پر پابندی لگانا مودی سرکار کی ذہنی شکست کی علامت ہے،مقبوضہ کشمیر پر زبردستی حکمرانی مودی سرکار کی غیر جمہوری سوچ اور آمریت کی عکاس ہے ، مودی سرکار کے ان جارحانہ اقدامات سے مقبوضہ جموں و کشمیر پر گرفت مضبوط نہیں بلکہ غیر مستحکم ہو رہی ہے۔