ویب ڈیسک: یونائیٹڈ ہیلتھ گروپ نے تصدیق کی ہے کہ اس کا میڈی کیئر ایڈوانٹیج پروگرام امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات کا سامنا کر رہا ہے، اور کمپنی اس سلسلے میں ادارے سے مکمل تعاون کر رہی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا رپورٹس سامنے آنے کے بعد کمپنی نے خود محکمہ انصاف سے رابطہ کیا۔ اب وہ فوجداری اور دیوانی تحقیقات میں درکار دستاویزات فراہم کر رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی مئی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق محکمہ انصاف یونائیٹڈ ہیلتھ کے خلاف ممکنہ میڈی کیئر فراڈ کی تحقیقات کر رہا ہے، تاہم الزامات کی مکمل نوعیت ابھی واضح نہیں۔ یونائیٹڈ ہیلتھ اُن متعدد نجی کمپنیوں میں شامل ہے جنہیں حکومت سینئر شہریوں کو میڈی کیئر سروس فراہم کرنے کے لیے ٹھیکہ دیتی ہے۔
اس سے قبل، مئی میں یونائیٹڈ ہیلتھ نے کسی بھی تحقیقات سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو "غیر ذمہ دارانہ" قرار دیا تھا اور اپنے میڈی کیئر پروگرام کی شفافیت پر زور دیا تھا۔
کمپنی نے حالیہ بیان میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ آزادانہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے اپنی پالیسیوں، مریضوں کی صحت کے تعین کے طریقوں، اور فارمیسی سروسز کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یونائیٹڈ ہیلتھ ایک بڑے انتظامی بحران سے گزر رہی ہے۔ گزشتہ دسمبر، کمپنی کے ہیلتھ انشورنس یونٹ کے سی ای او، برائن تھامسن کو نیویارک کی سڑک پر قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں، مئی میں سی ای او اینڈریو وٹی نے بھی اچانک استعفیٰ دے دیا۔ سابق سی ای او اسٹیفن ہیمزلے کو واپس لایا گیا ہے۔
گزشتہ سال کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد کمی آ چکی ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ ویلیو میں 277 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔ جمعرات کو کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں مزید 5 فیصد کمی دیکھی گئی۔