سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی بھارت کی نفرت انگیز موسیقی کی صنعت پر رپورٹ

سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی بھارت کی نفرت انگیز موسیقی کی صنعت پر رپورٹ
کیپشن: سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی بھارت کی نفرت انگیز موسیقی کی صنعت پر رپورٹ

ویب ڈیسک:  سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) واشنگٹن ڈی سی میں قائم ایک غیر منافع بخش اور غیر جانبدار تھنک ٹینک ہے، جو نفرت، تشدد، انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور آن لائن نقصانات کے خلاف تحقیق اور پالیسی سازی کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔
15 جون 2026 کو CSOH نے "Profiting from Hate Music: The Role of YouTube, Meta, Spotify, and Apple Music in Hosting and Monetizing India's Hate Music Industry" کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ میں بھارت کے ہندوتوا نفرت انگیز موسیقی کے نظام کا جائزہ لیا گیا اور 523 گانوں کی نشاندہی کی گئی جو یوٹیوب، اسپاٹیفائی، ایپل میوزک اور میٹا کی میوزک لائبریری سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے پلیٹ فارمز پر موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ گانے پلیٹ فارمز کی اپنی مواد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں کیونکہ ان میں مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف نفرت، غیر انسانی رویوں اور تشدد پر اکسانے والا مواد شامل ہے۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور بیانیے میں مسلسل اور نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بھارت میں نفرت انگیز اظہار مختلف ذرائع کے ذریعے سامنے آتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں موسیقی کی شکل میں نفرت انگیز مواد ایک الگ اور نمایاں رجحان کے طور پر ابھرا ہے۔ اس صنف کو عام طور پر ہندو قوم پرست یا ہندوتوا پاپ میوزک (H-Pop) کہا جاتا ہے، جو ہندو قوم پرستانہ نظریات کی ترویج کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس موسیقی کا استعمال مسلمانوں اور عیسائیوں کو بدنام اور غیر انسانی ثابت کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ ہندو اکثریت کے بعض حلقوں میں غصہ، خوف اور دشمنی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوٹیوب بھارت سے تعلق رکھنے والی نفرت انگیز موسیقی کا سب سے بڑا میزبان پلیٹ فارم ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یوٹیوب پر 98 فنکاروں، جن میں گلوکار اور ڈسک جاکیز شامل ہیں، کے تیار کردہ 210 نفرت انگیز گانے موجود ہیں۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ گانے یوٹیوب کی اپنی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے باوجود پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ یوٹیوب پر شناخت کیے گئے 210 گانوں میں سے 104 گانے (49 فیصد) مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف براہِ راست تشدد پر اکسانے یا دھمکیوں پر مشتمل ہیں۔
ان گانوں کو مجموعی طور پر کم از کم 97 ملین مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔  رپورٹ میں 53 فنکاروں کے 109 نفرت انگیز گانے اسپاٹیفائی پر شناخت کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں 103 نفرت انگیز گانوں کی نشاندہی میٹا کی میوزک لائبریری میں بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 59 فنکاروں کے 101 نفرت انگیز گانے ایپل میوزک پر بھی موجود ہیں۔
باقی گانے اگرچہ کھلے طور پر تشدد کی دعوت نہیں دیتے، تاہم رپورٹ کے مطابق وہ مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔
ان گانوں میں غیر انسانی زبان، توہین آمیز القابات اور سازشی نظریات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مواد خوف، غصے اور ایسے حالات کو جنم دیتا ہے جو حقیقی دنیا میں نشانہ بنائے گئے گروہوں کے خلاف نقصان دہ اقدامات کا سبب بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے اختتام پر یوٹیوب، میٹا، اسپاٹیفائی اور ایپل میوزک کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
ان سفارشات میں پلیٹ فارمز کو اپنی مواد سے متعلق پالیسیوں کے مؤثر نفاذ اور نفرت انگیز موسیقی کے پھیلاؤ اور مالی منفعت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
تشدد پر مبینہ اکسانا
رپورٹ کے مطابق متعدد گانوں میں مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت سے ختم کرنے، ان پر حملے کرنے، انہیں ملک بدر کرنے یا کسی بھی شکل میں ملک سے نکالنے کی کھلی ترغیب دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان گانوں میں ایک خالصتاً ہندو ریاست کے قیام کی حمایت بھی کی گئی ہے۔ رپورٹ کا مؤقف ہے کہ ایسا مواد تشدد پر اکسانے کے زمرے میں آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مواد مذہبی اقلیتوں کے خلاف دشمنی، تعصب اور نفرت پر مبنی ماحول کو فروغ دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کی رائے
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز مواد کے فروغ میں بھارتی حکومت کی ناکامی ایک اہم عنصر ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بڑی آن لائن ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی غفلت بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مواد کی میزبانی، تشہیر اور مالی منفعت مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی رویوں اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ سے مذہبی اقلیتوں کے خلاف ممکنہ تشدد اور عدم برداشت کے رجحانات کو بھی تقویت ملتی ہے۔

Watch Live Public News