ویب ڈیسک: پینل آف اِنڈیپنڈنٹ اِنٹرنیشنل ایکسپرٹس (PIIE) کی جانب سے بھارت کی ریاست آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ (2022 تا 2025)۔
مارچ 2026 کی اس رپورٹ کو تقریباً 31 مارچ 2026 کو ٹرانس نیشنل لیگل کلینک، ڈکسن پون اسکول آف لا، کنگز کالج لندن میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران جاری کیا گیا۔ ماہرین کے بین الاقوامی پینل نے آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تنقید کی اور عالمی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی حکومت کے دور میں مسلم مخالف تشدد میں اضافہ ہوا، جبکہ آسام اور اتر پردیش میں مسلمان مسلسل مشکلات اور دباؤ کا شکار ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کی رپورٹ نے آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم کو منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قرار دیا اور معاملے کو عالمی جوابدہی کی بحث تک پہنچا دیا۔ آسام اور اتر پردیش اب اکثریتی سیاست، امتیازی پولیس کارروائیوں، جبری بے دخلی، نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں پر ریاستی دباؤ کی مثال بن چکے ہیں۔
بھارت کا ایک آمرانہ ریاست کے طور پر چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے، جبکہ خود کو کثیرالثقافتی اور آئینی جمہوریت کہنے کے دعوے کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔
کیپشن: ماہرین کے پینل کی آسام اور اتر پردیش میں مسلمانوں کیخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید