ویب ڈیسک:پاکستان میں تیار ہونے والی گاڑیاں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں میں ایک ہی ماڈل کی قیمت تین گنا تک بڑھ چکی ہے۔ پیداواری لاگت میں اضافے کے ساتھ ساتھ بھاری ٹیکسز بھی گاڑیوں کی مہنگائی کی بڑی وجہ قرار دی جا رہی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں آٹو انڈسٹری کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ٹویوٹا موٹرز پاکستان کے سی ای او علی اصغر جمالی نے بتایا کہ ملک میں تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں 30 سے 60 فیصد حصہ صرف ٹیکسز کا ہوتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ٹویوٹا ریوو ڈالے کی قیمت ایک کروڑ 88 لاکھ روپے ہے، جس میں ایک کروڑ 11 لاکھ روپے صرف ٹیکس شامل ہیں۔ اسی طرح ٹویوٹا فورچونر کی قیمت دو کروڑ 44 لاکھ روپے ہے، جس میں سے ایک کروڑ 48 لاکھ روپے ٹیکس بنتا ہے۔ ٹویوٹا کرولا کی قیمت میں بھی 35 لاکھ روپے ٹیکس شامل ہے۔
علی اصغر جمالی کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل آٹو انڈسٹری کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ حال ہی میں 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، جو مقامی مینوفیکچررز کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ٹویوٹا کے لیے پاکستان میں 30 کروڑ ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
اجلاس کے دوران پاک سوزوکی کے جاپانی سی ای او ہروشی کاوامورا نے بھی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ سوزوکی پاکستان میں پرزہ جات کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے 40 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی خواہش رکھتی ہے، تاہم حکومت کی نئی ٹیرف پالیسی نے انڈسٹری کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سوزوکی کے لیے زیادہ منافع بخش یہی ہے کہ وہ گاڑیاں جاپان سے درآمد کر کے براہِ راست پاکستان میں فروخت کرے۔