ویب ڈیسک: ایران کے جنوب مشرقی شہر زاہدان میں مسلح افراد نے عدالتی کمپاؤنڈ پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، حملہ آوروں نے عدالتی کمپاؤنڈ میں داخل ہو کر سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی، جس کے بعد علاقے میں فضا کشیدہ ہو گئی اور سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر مقام کو گھیرے میں لے لیا۔
واقعے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ کئی منٹوں تک جاری رہا، جس سے عدالتی عملے، وکلا اور دیگر شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی درست تعداد تاحال واضح نہیں ہو سکی، تاہم حکام نے متعدد جانی نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
زاہدان ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کا مرکزی شہر ہے، جو ماضی میں بھی شدت پسند حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے حملے کے بعد جائے وقوعہ پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور ممکنہ حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام نے کہا ہے کہ حملے کی نوعیت اور مقاصد سے متعلق تحقیقات جاری ہیں، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایران کی عدلیہ اور وزارت داخلہ نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ریاستی نظام پر حملہ قرار دیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔