(ویب ڈیسک ) بھارت میں 7 سال ایک ایسے ملک کا سفارتخانہ چلتا رہا جس کا دنیا میں وجود ہی نہیں ، یہ واقعہ بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی ایک اور سنگین اور شرمناک ناکامی ہے۔
بھارت کے شہر غازی آباد میں آٹھ سال تک ایک جعلی سفارتخانہ چلتا رہا اور کسی بھی انٹیلی جنس یا سیکیورٹی ادارے کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔یہ صرف دھوکہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کی ناکامی ہے۔
ہارشوردھن جین خود کو “بارون” کہتا تھا اور مختلف جعلی ریاستوں کا نمائندہ بن کر جعلی دستاویزات، مہریں اور کرنسی استعمال کرتا رہا اور یہ سب کچھ بھارتی اداروں کے سامنے ہو رہا تھا۔
یہ جعلی سفارتخانہ 2017 سے 2025 تک چلتا رہا، اور بھارت کی اہم ایجنسیاں جیسے آئی بی (IB) اور را (RAW) مکمل طور پر اس سے بےخبر رہیں۔اس کے قبضے سے 12 جعلی سفارتی پاسپورٹ، 18 جعلی نمبر پلیٹس، اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ جعلی تصویریں ملی ہیں، جن سے وہ اپنے آپ کو بڑا اور بااثر دکھاتا رہا۔
چھاپے کے دوران پولیس نے 44 لاکھ روپے نقد اور 30 لاکھ روپے کے برابر غیر ملکی کرنسی برآمد کی۔ اس نے درجنوں لوگوں کو بیرون ملک نوکریوں کا جھوٹا وعدہ کر کے لوٹا۔
اس کیس نے نہ صرف انٹیلی جنس کی ناکامی بلکہ بھارتی اداروں میں گہری کرپشن کو بھی بےنقاب کیا اور اتنا بڑا دھوکہ بغیر اندر کے لوگوں کی مدد کے ممکن نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا پولیس، وزارت خارجہ یا خفیہ ادارے واقعی بےخبر تھے؟ یا وہ خاموشی بیچ رہے تھے؟
ماہرین کے مطابق یہ صرف کوتاہی نہیں، بلکہ اداروں کے اندر موجود کرپشن، اقرباپروری، اور سیاسی تحفظ کا نتیجہ ہے۔ یہ وہی شخص ہے جسے 2012 میں بھی غیر قانونی سیٹلائٹ فون رکھنے پر پکڑا گیا تھا اور پھر بھی وہ آزاد گھومتا رہا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ بھارتی ایجنسیاں پہلے بھی ایسی بڑی ناکامیوں کا شکار رہ چکی ہیں،22 جولائی 2025 کو بمبئی ہائی کورٹ نے بمبئی دھماکوں کی تفتیش کو “غیر معیاری اور مشکوک” قرار دیا اور 12 مسلمانوں کو بے گناہ کہہ کر رہا کر دیا۔
کینیڈا نے NIA کی تفتیش کو غیر پیشہ ورانہ اور سیاسی اثر زدہ کہہ کر مسترد کیا۔پہلگام واقعے میں انٹیلی جنس کی ناکامی کو دو معصوم چرواہوں پر ڈالنے کی کوشش کی گئی، جس پر خود بھارتی عوام سراپا احتجاج ہیں۔
اگر بھارتی حکومت اپنے تحقیقاتی اداروں کی ساکھ بچانا چاہتی ہے، تو اسے سچ اور حقائق کا سامنا کرنا ہوگا — نہ کہ جھوٹے بیانیوں اور پردہ پوشی سے کام لینا۔
خیال رہے کہ 25جولائی 2025 کو اتر پردیش اسپیشل ٹاسک فورس نے 47 سالہ ہارشوردھن جین المعروف “بارون ایچ وی جین” کو گرفتار کیا، جو 2017 سے غازی آباد کے ایک گھر میں جعلی سفارتخانہ چلا رہا تھا۔
وہ خود کو ویسٹارکٹیکا اور سیبورگا جیسی فرضی ریاستوں کا سفیر ظاہر کرتا تھا اور جعلی پاسپورٹس، سفارتی نمبر پلیٹس، اور فوٹو شاپ تصاویر کے ذریعے نوکری کا جھانسہ دے کر لوگوں سے پیسے بٹورتا اور حوالہ ہنڈی کے ذریعے کالے دھن کا لین دین کرتا رہا۔