ویب ڈیسک: بھارت میں بی جے پی حکومت کی سیاسی حکمت عملی پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں،جب بی جے پی صدر کے انتخاب میں تاخیر اور پہلگام حملے کا استعمال سیاسی مقاصد کے لیے کیا جانا میڈیا، اپوزیشن اور سیاسی ماہرین کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بی جے پی صدر کے انتخاب میں تاخیر مودی سرکار کی سیاسی ناکامی اور اندرونی خلفشار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دی ایشین ایج میں شائع مضمون کے مطابق پہلگام حملے کو جواز بنا کر مودی سرکار نے بی جے پی صدر کے انتخاب کو مؤخر کر دیا،بی جے پی کو امید تھی کہ پہلگام حملہ اور آپریشن سندور آر ایس ایس کو رام کر لیں گے، مودی سرکار دہشتگردی کا الزام پاکستان پر تھوپنے پر تلی ہوئی تھی۔
دی ایشین ایج میں شائع مضمون میں مزید کہا گیا ہے کہ بدترین ناکامی کے بعد مودی عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے، ووٹ بینک کے نام پر بی جے پی کی "ترنگا یاترا" ریلیاں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ مودی سرکار آپریشن سندور کی تفصیلات چھپا کر محض ووٹ بٹورنے کے لئے سرگرم ہے، مودی سرکار کو خصوصی اجلاس بلا کر آپریشن سندور اور پہلگام حملے کی تفصیلات سامنے لانا چاہیے،بی جے پی محض آپریشن سندور کو بہار انتخابات میں سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ پہلگام حملے کا وقت اور آپریشن سندور کا اعلان سب کچھ ووٹ بینک کے لیے پلان کیا گیا،آپریشن سندور کا نام استعمال کر کے مودی سرکار نے ملک کی سیکیورٹی کو ووٹرز کی نفسیات سے جوڑ دیا۔