ویب ڈیسک: بھارت کی مودی سرکار ایک مرتبہ پھر شدید تنقید کی زد میں ہے، اس بار آواز اُٹھی ہے خود بھارت کے اندر سے۔ معروف بھارتی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار آوے شُکلا نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت پر انتہائی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اسے ایک شدت پسند، غیر جمہوری اور تعصب پر مبنی نظام قرار دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آوے شُکلا نے یہ باتیں بھارتی میڈیا پلیٹ فارم "دی وائر" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیں، جس کی میزبانی ملک کے معروف صحافی کرن تھاپر نے کی۔ انٹرویو میں آوے شُکلا نے کہا کہ " مودی کی پالیسیاں عام آدمی کی زندگی پر نہایت منفی اثرات ڈال رہی ہیں،پروگرام میں کرن تھاپر کی جانب سے بھارت میں ہونے والے حالیہ واقعات پر اہم سوال بھی اٹھائے گئے۔
کرن تھاپر نے کہاکہ کیا انتہا پسند سوچ رکھنے والے بھارتی، مسلم ورثے کو اپنی ہندو سنسکرتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں؟۔
آوے شُکلا نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، مودی کی سرپرستی میں ایک عام روایت بن چکی ہے، بھارت وسیع طور پر مودی سرکار کے شدت پسند ہندوتوا نظریے کا گڑھ بن چکا ہے۔
کرن تھاپر نے آوے شُکلا سے اُن کی کتاب کے باب "دی ڈفر زون" کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ "کیا آپ واقعی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک نااہل قوم ہیں؟"۔
آوے شکلا نے بھارت کو مودی کی انتہاپسندی کے زیر اثر "ڈفر زون" قرار دیا اور کہا کہ مودی کے زیر حکومت بھارت میں تعصب، جہالت اور نفرت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے، مودی کے بھارت میں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور تنقید کرنے والوں کو "غدار" ٹھہرا دیا جاتا ہے،جمہوریت کا راگ الاپنے والی مودی سرکار عوام کی آزادی رائے کو دبانے میں مصروف ہے۔
کرن تھاپر نے کہا کہ کیا ڈفرز اور سارجنٹ میجرز کا یہ امتزاج بھارت کو ایک ناقابلِ قبول قوم بنا رہا ہے؟۔
آوے شُکلا نے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کو ایک "ناقص جمہوریت" کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے، بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی مودی کی ناقص حکمرانی کی دلیل ہے، بھارت میں زبان کی بنیاد پر نفرت اور تعصب، قومی اتحاد کو کمزور کرنے والی پالیسیوں کا حصہ بن چکی ہے، مودی کے بھارت میں عوام اپنی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، اچھی تعلیم، صحت اور معقول روزگار سے محروم ہیں۔
آوے شُکلا نے مزید کہا کہ بھارت کی روایتی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت مودی کی انتہا پسند سوچ کے باعث شدید خطرے میں ہے، بھارت ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں انصاف، آزادی، اور انسانی وقار کی جگہ حکمرانوں کی آمریت نے لے لی ہے۔