ویب ڈیسک: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں تین ہفتوں کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہیں۔ اس اضافے نے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت میں 2.55 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ بڑھ کر 108.01 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 2.50 فیصد اضافے کے ساتھ 96.74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کے اثرات عالمی مالیاتی منڈیوں پر بھی دیکھنے میں آئے، جہاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کے فیوچر سودوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور S&P 500 کے سودے 0.3 فیصد تک گر گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت سرمایہ کاروں کی توجہ آبنائے ہرمز پر مرکوز ہے، جو مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اس گزرگاہ سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس سے عالمی سطح پر رسد اور طلب میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جہاں ایندھن مہنگا ہونے سے مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔