ویب ڈیسک : ( علی زیدی) ایف بی آئی کے بعد سی آئی اے نے بھی کورونا وائرس ووہان چین کی لیب سے لیک ہونے کا یقین ظاہر کردیا ہے۔
سی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ COVID-19 یعنی کورونا وبائی مرض نہیں تھا بلکہ "زیادہ امکان" چین میں ووہان کی لیبارٹری سے لیک ہونے کا ہے۔ چین نے واقعہ کو الزام قراردیتے ہوئے سازش قرار دیا ہے ۔
یادرہے سی آئی اے کا یہ بیان جان ریٹکلف کی جانب سے سی آئی اے کا نیا سربراہ بننے کے بعد سامنے آیا ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کا یہ بیان چین پر دباؤ بڑھانے کے لئے دیا گیا ہے۔
" سی آئی اے کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیاہے کہ COVID-19 کا وائرس وبائی امراض کی تحقیق کےدوران لیک ہوا اور قدرتی ماخذ کے طور پر پھوٹا دونوں صورتیں قابل فہم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کورونا کی وجہ ووہان لیب لیک قرار، صدرجوبائیڈن کو جان بوجھ کر بےخبررکھنے کا انکشاف
"ہمیں اس فیصلے پر کم اعتماد ہے اور ہم دستیاب قابل اعتماد نئی انٹیلی جنس رپورٹنگ یا اوپن سورس معلومات کا جائزہ لیتے رہیں گے ۔
دوسری طرف امریکی میڈیا کی رپورٹ ہے کہ اس انکوائری کا حکم سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے تحت دیا گیا تھا اور سی آئی اے کے نئے ڈائریکٹر ریٹکلف کا اس انکوائری سے کوئی لینا دینا نہیں۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق اسیسمنٹ بھی موجودہ انٹیلی جنس پر مبنی تھی، نئی معلومات پر نہیں۔
یادرہے کہ ایف بی آئی اور محکمہ توانائی پہلے ہی اس عوامی نظریہ کی حمایت کرچکے ہیں کہ ممکنہ طور پر کوویڈ 19 چین کے شہر ووہان کی ایک لیب سے لیک ہوا تھا۔اب سی آئی اے بھی اس میں شامل ہوچکاہے ۔جبکہ چار دیگر امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور نیشنل انٹیلی جنس کونسل نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر قدرتی منتقلی کے ذریعے سامنے آیا ہے۔
دوسری طرف واشنگٹن، ڈی سی میں چین کے سفارت خانے نے سی آئی اے کی اس انکوائری رپورٹ کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ گمراہ کن نتائج اخذ کرتے ہوئے چین پر گند ے الزامات اچھالے گئے "۔سیاسی جوڑ توڑ کا یہ اب بھی پرانا معمول ہے اور اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ سفارتخانے کے ترجمان لیو پینگیو کا کہنا تھا کہ وائرس کا منبع ایک پیچیدہ سائنسی مسئلہ ہے اور اس کا جواب سائنسدانوں اور ماہرین کو پیچیدہ سائنسی تحقیق کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ سیاست دانوں کے ذریعے فیصلہ کیا جائے۔
لیو نے مزید کہا کہ چین نے ہمیشہ سائنس، کھلے پن اور شفافیت کے جذبے پر عمل کیا ہے" انہوں نے 2021 کے عالمی ادارہ صحت-چین کے مشترکہ مطالعے کا حوالہ دیا جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ لیب میں وائرس لیک ہونے کا "انتہائی امکان نہیں" تھا۔
تاہم جمعہ کو بریٹ بارٹ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں ، ڈائریکٹر ریٹکلف نے کہا تھا کہ COVID کی ابتدا جاننا اولین ترجیح ہوگی۔