لاہور میں سنیما کے سو سال مکمل ہونے پر  کریٹیو آرٹس  پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس

لاہور میں سنیما کے سو سال مکمل ہونے پر  کریٹیو آرٹس  پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس

(ویب ڈیسک )  پنجاب یونیورسٹی شعبہ گرافکس ڈیزائن، برٹش قونصل اور دیگر اداروں کے تعاون سے کیا گیا۔

کانفرنس میں وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی، معروف ہدایتکار سید نور  ،معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر، فلم اور تھیٹر انڈسٹری سے نامور شخصیات  نے  شرکت  کی۔ کانفرنس میں ڈاکٹر فلیحہ کاظمی، ڈاکٹر عظمی قریشی، اساتذہ، طلباء و طالبات  نے بھی  شرکت کی۔

ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ  پنجاب یونیورسٹی میں انڈسٹری کے تعاون سے فلم اکیڈمی بنائیں گے، ہم نے فلم ا نڈسٹری میں اپنے لوگوں کی قدر  نہیں کی۔ پنجاب یونیورسٹی آپ کو ہمیشہ خراج تحسین پیش کرتے ہیں، آپ لوگ اعزازی پی ایچ ڈیز کے مستحق ہیں، ہمیں آپ پر فخر ہے، فلم سے لوگ سیکھتے بھی تھے اور لوگوں کا روزگار وابستہ تھا۔

وائس چانسلر  نے کہا کہ  جدید رحجانات کو نہ اپنانا فلم انڈسٹری کے زوال کا باعث بنا، نوجوان فلم میں جدید رحجانات کو فروغ دے کر سینما کی رونقیں بحال کریں، کامیابی کا معیار بنی نوع انسان کی خدمت ہے،   افتخار ٹھاکر جیسے لوگ ہنسا کر لوگوں کی زندگی بڑھاتے ہیں،   فلم انڈسٹری کے لوگ یونیورسٹی آ کر پڑھائیں اور اپنا تجربہ نئی نسل تک پہنچائیں۔

سید نور نے کہا کہ  سنیما انڈسٹری کے سو سال میں 53 سال دیکھے ہیں، فلم انڈسٹری کا انتہا کا عروج اور انتہا کا زوال دیکھا ہے، ایسا پروگرام کبھی دیکھا نہیں کہ سٹوڈنٹس میں فلم میکنگ کا رحجان پیدا ہو، ہم سوچتے تھے کہ فلم یونیورسٹیوں میں پڑھائی جائے،  ڈگری سب کے پاس ہے مگر کوئی فلم میکر نہیں بنتا، جذبہ پیدا ہو گا تو اچھے فلم میکرز پیدا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ  ہندوستان میں بھی فلم انڈسٹری زوال پذیر ہو گئی ہے، فلم لارجر دین لائف ہے، گرافکس ہمارا مستقبل ہے،  ہم نے اپنے پر فخر نہیں کیا اس لئے پیچھے رہ گئے، ہمیں اپنے ماضی پر فخر کر کے مستقبل کے لئے کام کرنے چاہئیں۔

افتخار ٹھاکر نے کہا کہ   سید نور جیسے لوگوں  نے فلم انڈسٹری میں نامور لوگ پیدا کئے،  ہالی وڈ اور ساوتھ کی فلمیں گرافک ڈیزائن پر کامیاب ہیں،   فلم انڈسٹری میں آگے جانا ہے تو گرافکس ڈیزائننگ کے شعبے کوفروغ دینا چاہئیے،  نیو یارک فلم اکیڈیمی جوائن کرنے کے لئے امریکہ سے گریجوایشن کی۔

انہوں نے کہا کہ  27 جنوری2001 میں نیو یارک فلم اکیڈیمی سے ڈگری حاصل کی،  آج میں جہاں ہوں میرے اساتذہ کا کریڈٹ ہے،  ہندوستان کی انڈسٹری زوال کا شکار، دوسرے ملک میں جا کر فلم بناتے ہیں۔

ڈاکٹر احمد بلال نے کہا کہ  ہمارے پاس 100 فلمیں سال میں بنتی تھیں،  سنیما انڈسٹری کے زوال نے فکری انحطاط پیدا کیا، سنیما دیکھنے والے بھی موجود ہیں اور سنیما انڈسٹری بحال کرنے کے ذرائع بھی ہیں۔

Watch Live Public News