ویب ڈیسک: اسپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی سخت فیصلہ ورلڈکپ کو ہلا کر رکھ دے گا، کیونکہ پاکستان آئی سی سی کا ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 25 کروڑ اور بنگلادیش میں 20 کروڑ شائقین ہیں، تاہم کمرشل اعتبار سے پاکستان کی اہمیت کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق آئی سی سی کی آمدن کا بڑا حصہ پاک بھارت میچز سے جڑا ہے اور صرف ایک پاک بھارت ٹی20 میچ براڈکاسٹرز کو تقریباً 1.3 بلین ڈالرز تک کی آمدن دیتا ہے۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق آئی سی سی ٹورنامنٹس کی مجموعی آمدن کا تقریباً 63 فیصد صرف پاک بھارت میچ سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے اگر پاکستان نے ورلڈکپ کا بائیکاٹ کیا تو آئی سی سی کے لیے صورتحال سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کی جانب سے فیصلہ حکومت پاکستان پر چھوڑنا ایک مؤثر حکمتِ عملی ہے، اور اگر حکومت شرکت سے روک دیتی ہے تو آئی سی سی کے لیے پاکستان پر جرمانہ عائد کرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر نعمان نیاز کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ تر براڈکاسٹرز بھارتی ہیں، اور پاکستان کی عدم شرکت کی صورت میں آئی سی سی ٹورنامنٹ کی اہمیت اور کمرشل ویلیو شدید متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق پاکستان کو اس وقت ایک مضبوط مؤقف اختیار کرنے کا موقع حاصل ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو آئی سی سی سے ہر سائیکل میں 34 ملین ڈالرز کی گرانٹ ملتی ہے، تاہم آئندہ سائیکل میں رینکنگ سسٹم کے باعث اس گرانٹ میں کمی متوقع ہے۔