لاہور میں سرکاری زمین پر پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

لاہور میں سرکاری زمین پر پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا

(ویب ڈیسک ) اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال سرکاری اراضی جعلی انتقالات سے خردبرد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایئرپورٹ روڈ سے متصل 2809 کنال سرکاری اراضی جعلی انتقالات کے ذریعے خردبرد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیب حکام سر پکڑ کر بیٹھ گئے، اربوں روپے مالیت کی کمرشل جائیداوں کے دہائیوں قبل کی فردیں مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔

ذرائع کے مطابق   نیب لاہور نے ڈیوائن ڈویلپرز کیخلاف اربوں روپے مالیت کی ہزاروں کنال سرکاری اراضی جعلی انتقالات سے خردبرد کی تحقیقات شروع کردیں، لاہور ایئرپورٹ روڈ سے متصل 6 موضع جات میں مجموعی طور پر 2809 کنال سرکاری اراضی جعلی انتقالات پر خردبرد کی گئیں۔موضع گوہاوہ تحصیل کینٹ، موضع کوہاڑ، کیر خورد، اجودھیاپور ماڈل ٹاؤن، موضع چرڑ، اور اراضی سہجپال شامل ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ   ڈیوائن گروپ، گرین ایونیو ہاؤسنگ سکیم، ڈیوائن ہومز، ڈیوائن سینٹر، ڈیوائن میگا ون-ٹو، کرکٹ کالونی، خدابخش کالونی کیخلاف تحقیقات جاری ہیں ۔ پراجیکٹس کے مالکان کیجانب سے اربوں روپےمالیت کے اثاثہ جات بنانے کے شواہد بھی حاصل کرلیے گئے۔

ذرائع کے مطابق  ملزمان میں امجد عزیز، ماجد عزیز، محمد یونس، محمد اشرف، محمد اکمل، محمد افضل اور خاندان کے دیگر افراد شامل ہیں ، ملزمان کیجانب سے وسیع پیمانے ہر خردبرد کیلئے 12 سے زائد کمپنیاں بنائی گئیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ  مذکورہ اراضی پر قائم سرکاری زمینوں و جائیدادوں کی خرید و فروخت سے باز رہیں، نیب لاہور نے سرکاری ملازمین کو بھی پابند کردیا۔ نیب لاہور کیجانب سے متعلقہ ریونیو حکام کو بھی ماضی میں ہونیوالے تمام انتقالات کی تفصیلات فوری فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔

ذرائع  کا کہنا ہے کہ نیب احکامات کیمطابق مستقبل میں ہونیوالے تمام انتقالات کی نیب لاہور سے باقاعدہ منظوری لینا لازم ہوگا،  سرکاری اراضی کی غیرقانونی خردبرد میں ملوث ملزمان کیلئے سہولت کاری میں ملوث سرکاری ملازمین کیخلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔

Watch Live Public News