(ویب ڈیسک ) مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کی جانب سے مستقبل کے بارے میں دنگ کر دینے والی پیشگوئی کی گئی ہے۔
بل گیٹس نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ ایک دہائی میں اے آئی ٹیکنالوجی اتنی پیشرفت کرلے گی کہ دنیا میں بیشتر کاموں کے لیے انسانوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
بل گیٹس نے انٹرویو میں کہا کہ ابھی مختلف شعبوں جیسے طب اور تعلیم میں ہمیں انسانی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے لیکن آئندہ دہائی کے دوران آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی ہی ڈاکٹر اور استاد کی جگہ لے لی گی۔
بل گیٹس نے فروری میں ایک انٹرویومیں کہا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجیز میں ہونے والی پیشرفت ہر ایک کیلئے قابل رسائی ہوگی اور لگ بھگ ہماری زندگی کے تمام پہلوؤں تک پہنچ جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اے آئی اور ورچوئل اسسٹنٹس کی بدولت امراض کی تشخیص کا عمل بہت زیادہ بہتر ہو جائے گا۔
بل گیٹس نے کہا کہ 'ایسا بہت تیزی سے ہو رہا ہے اور یہ کچھ حد تک خوفزدہ کر دینے والا بھی ہے کیونکہ یہ برق رفتاری سے ہو رہا ہے'۔
اس سے قبل ستمبر 2024 میں بل گیٹس نے پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی تعلیم اور طب کے شعبوں میں پیشرفت کو بہت تیز کرسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 'یہ پہلی ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ماہرین کی توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے پیشرفت کر رہی ہے'۔
بل گیٹس نے انتباہ کیا کہ اے آئی ٹیکنالوجی سے متعدد شعبوں کے لیے کام کرنے والے افراد کی ملازمتیں متاثر ہوسکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ' اے آئی ٹیکنالوجی کمپیوٹرز، فون اور انٹرنیٹ سے بھی زیادہ اثرات مرتب کرسکتی ہے، یہ میری زندگی میں ہونے والی سب سے بڑی ٹیکنالوجی پیشرفت ہے'۔
بل گیٹس نے پیشگوئی کی کہ ایک دہائی کے اندر مختلف شعبے جیسے تعلیم اور صحت نمایاں حد تک بدل جائیں گے۔
انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ اے آئی کے باعث کاروباری ہفتے کا دورانیہ مختصر ہوگا اور روایتی کل وقتی ملازمت کی ضرورت گھٹ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ طویل المعیاد بنیادوں پر ملازمت اتنی اہم نہیں رہے گی اور ہمارے خیال میں یہ ایک اچھی بات ہے۔