ایران نے امریکی 15 نکاتی جنگ بندی تجویزکا جواب دیدیا

ایران نے امریکی 15 نکاتی جنگ بندی تجویزکا جواب دیدیا
کیپشن: ایران نے امریکی 15 نکاتی جنگ بندی تجویزکا جواب دیدیا

ویب ڈیسک: ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکا کی جانب سے پیش کردہ 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کا باضابطہ جواب دے دیا ہے، جس میں فوری جنگ بندی، نقصانات کے ازالے اور خطے میں پائیدار امن پر زور دیا گیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے بدھ کی شب امریکی تجویز پر اپنا مؤقف ارسال کیا اور اب واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں واضح کیا ہے کہ تمام حملے فوری طور پر بند کیے جائیں، جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کے لیے ٹھوس ضمانتیں دی جائیں اور حالیہ تنازع کے دوران ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ فراہم کیا جائے۔

ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں اور تمام مزاحمتی گروپوں پر یکساں ہونا چاہیے تاکہ خطے میں دیرپا استحکام ممکن ہو سکے۔

مزید برآں، ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حق کو تسلیم کیے بغیر کسی بھی معاہدے پر پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ مذاکرات کے دعوے دراصل دیگر مقاصد کے حصول کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جن میں عالمی سطح پر نرم تاثر قائم کرنا، تیل کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا اور ممکنہ عسکری حکمت عملی کے لیے وقت حاصل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں امریکا پر مکمل اعتماد ممکن نہیں، کیونکہ سابقہ تنازعات میں بھی مذاکرات کے دوران ہی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران پر زور دیا تھا کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، ان کے بقول ایران عسکری طور پر کمزور ہو چکا ہے اور اسے مذاکرات کی طرف آنا ہوگا۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا آغاز رواں برس عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا تھا، تاہم بعد ازاں خطے میں کشیدگی اور حملوں کے تبادلے کے باعث یہ عمل متاثر ہوا۔

تازہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے مفادات کے تحفظ اور علاقائی خودمختاری پر کسی بھی سمجھوتے سے گریز کا واضح پیغام دیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

Watch Live Public News