ویب ڈیسک: نیویارک میں جاری عالمی شطرنج فیڈریشن (ایف آئی ڈی ای) نے لباس کے حوالے سے ضابطے کی خلاف ورزی کرنے پر پانچ مرتبہ شطرنج کے عالمی چیمپیئن بننے والے میگنس کارلسن پر نہ صرف جرمانہ عائد کیا بلکہ ورلڈ ریپڈ اینڈ بلٹز شطرنج چیمپئن شپ سے نااہل بھی قرار دے دیا۔
ایف آئی ڈی ای نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ دفاعی چیمپئن کارلسن کو جینز پہننے پر دو سو ڈالر جرمانہ کیا گیا، ٹورنامنٹ کے قواعد کے تحت جینز پہن کر اس میں شرکت ’واضح طور پر ممنوع‘ ہے۔
کارلسن نے چیف آربیٹر الیکس ہولووچک کی فوری طور پر لباس تبدیل کرنے کی درخواست قبول کرنے سے انکار کیا جس پر انہیں نااہل قرار دے دیا گیا، انہیں وال سٹریٹ میں جاری ریپڈ چیس چیمپئن شپ کے نویں راؤنڈ میں حصہ لینے کے لیے کسی کا مدمقابل نہیں بنایا گیا۔
فیڈریشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ ’لباس کے ضوابط فیڈریشن کے ایتھلیٹس کمیشن نے تیار کیے ہیں جو پیشہ ور کھلاڑیوں اور ماہرین پر مشتمل ہے۔ یہ قواعد کئی سال سے نافذ العمل ہیں اور تمام شرکا ان سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور انہیں ہر ایونٹ سے پہلے مطلع کیا جاتا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ایف آئی ڈی ای نے یہ بھی یقینی بنایا کہ کھلاڑیوں کی رہائش مقابلے کے مقام سے قریب ہو۔ قواعد پر عمل کے لیے زیادہ سہولت فراہم کی گئی۔
’آج میگنس کارلسن نے جینز پہن کر ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کی جس پر اس مقابلے کے لیے طویل عرصے سے چلنے آنے والے ضوابط کے تحت واضح پابندی ہے، چیف آربٹر نے کارلسن کو اس خلاف ورزی سے آگاہ کیا اور دو سو ڈالر جرمانہ کیا اور ان سے لباس تبدیل کرنے کی درخواست کی۔‘
فیڈریشن کا مزید کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے کارلسن نے انکار کر دیا اور اس کے نتیجے میں انہیں نویں راؤنڈ کے لیے کسی کا مدمقابل نہیں بنایا گیا۔ یہ فیصلہ غیر جانبداری کے ساتھ کیا گیا اور یہ تمام کھلاڑیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔‘