لاہور میں12 سال بعد غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ درج

لاہور میں12 سال بعد غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ درج

(ویب ڈیسک ) لاہور میں  12 سال بعد غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پولیس نے غیرت کے نام پر مبینہ قتل ہونے والی لڑکی کا مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ بیدیاں روڈ کے رہائشی شاہد علی کی مدعیت میں تھانہ ہئیر میں درج کیا گیا۔

ایف آئی آر  کے مطابق  مدعی شاہد نے 2012 میں چونگی امرسدھو کی رہائشی صوفیہ سے پسند کی شادی کی، شادی کے ایک مہینے بعد لڑکی کو اس والدین نے صلح کے بہانے گھر بلایا، لڑکی کے والد اور چچا نے چند دن بعد آکر اپنی بیوی کو لے جانے کا کہا۔

ایف آئی آر  میں کہا گیا ہے کہ  بیوی کو واپس لیجانے کے مطالبے پر میرے سسر نے دھمکیاں دیں،دھمکیوں سے ڈر کر میں ساہیوال چلا گیا اور دوسری شادی کر لی، کئی بار میرے والدین نے میرے سسرال رابطہ کیا لیکن حل نہ نکلا۔

ایف آئی آر  میں  کہا گیا کہ پتہ لگا ہے کہ صوفیہ کو اسکے والد، چچا اور دو نامعلوم نے قتل کردیا تھا، میری پہلی بیوی صوفیہ کو قتل کے بعد لاش نہر میں بہا دی گئی۔

ہئیر پولیس نے لڑکی کے والد عارف، چچا شوکت سمیت 4 افراد پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ   پولیس نے مقدمہ آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی معاونت سے درج کیا، پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیئے،مقتولہ کی لاش کاتاحال کوئی سراغ نہ مل سکا۔

Watch Live Public News