(ویب ڈیسک ) دبئی دنیا کی پہلی ’گولڈ اسٹریٹ‘ تعمیر کرنے جا رہا ہے، جو امارت کے گولڈ ڈسٹرکٹ میں قائم کی جائے گی۔
اگرچہ اس منصوبے کی مزید تفصیلات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی، تاہم اس کا اعلان اس وقت کیا گیا جب اتھرا دبئی (Ithra Dubai) نے باضابطہ طور پر دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کا آغاز کیا۔
سال 2024 سے 2025 کے دوران، متحدہ عرب امارات نے تقریباً 53.41 ارب ڈالر مالیت کا سونا برآمد کیا۔ اس کے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، بھارت، ہانگ کانگ اور ترکی شامل تھے۔ اس عرصے میں یو اے ای دنیا کا دوسرا سب سے بڑا فزیکل گولڈ ٹریڈنگ مرکز رہا۔
دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ
دبئی کا یہ نیا گولڈ ڈسٹرکٹ، جسے امارت کا ’ہوم آف گولڈ‘ قرار دیا جا رہا ہے، سونے اور جیولری سے متعلق ہر شعبے کو ایک ہی مقام پر اکٹھا کرے گا۔اس میں ریٹیل، بلین، ہول سیل تجارت اور سرمایہ کاری شامل ہیں۔ دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ میں مختلف شعبوں—جیسے پرفیوم، کاسمیٹکس، گولڈ اور لائف اسٹائل—سے وابستہ ایک ہزار سے زائد ریٹیلرز موجود ہیں۔
یہاں جوہرہ جیولری، ملبار گولڈ اینڈ ڈائمنڈز، الرومیزان اور تنیشق جیولری جیسے بڑے برانڈز پہلے ہی قائم ہیں، جبکہ جوئیالوکس (Joyalukkas) نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سب سے بڑے 24 ہزار اسکوائر فٹ کے فلیگ شپ اسٹور کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
اتھرا دبئی کے سی ای او عصام گلدار کا کہنا ہے کہ دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ “وراثت، وسعت اور مواقع کو یکجا کرتا ہے۔”
دبئی فیسٹیولز اینڈ ریٹیل اسٹیبلشمنٹ (DFRE) — جو دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورزم (DET) کا حصہ ہے — کے سی ای او احمد الخجہ نے کہاکہ
“ سونا دبئی کی ثقافتی اور تجارتی شناخت میں گہرائی سے پیوست ہے، جو ہماری وراثت، خوشحالی اور کاروباری جذبے کی علامت ہے۔ اس تاریخی مقام کے ذریعے ہم نہ صرف اس ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ تخلیقی صلاحیت اور پائیداری سے تشکیل پانے والے نئے دور کے لیے اسے ازسرِنو تصور بھی کرتے ہیں۔”