ویب ڈیسک: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان معدنیات کے شعبے میں شراکت داری کو فروغ دینے پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ریکو ڈیک جیسے بڑے منصوبے کی ترقی کے لیے دونوں ممالک نے قریبی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریکو ڈیک منصوبے میں 65 ارب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں اندازاً 2 ارب ٹن کاپر اور 20 ملین اونس سونا شامل ہے۔ آسٹریلیا نے پاکستان کے معدنی وسائل میں گہری دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے خاص طور پر ریکو ڈیک میں مشترکہ منصوبوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔
پاکستان کے وزیر توانائی نے آسٹریلیا کی کان کنی میں مہارت کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دینے پر زور دیا۔ آسٹریلیا نے بھی پاکستانی اداروں کے لیے معدنیات کی جدید تربیت کے پروگرام کی تجویز دی ہے، جو مستقبل میں پاکستان کے معدنی شعبے کی استعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ایس آئی ایف سی نے آسٹریلوی کمپنیوں کے لیے توانائی، کان کنی اور آبی وسائل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے ملک میں کاروبار دوست ماحول پیدا ہوا ہے، جس سے مشترکہ منصوبوں کے امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ شراکت داری پاکستان کی معیشت کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس وقت جب ملک معدنیات کی صنعت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔