ویب ڈیسک:ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی اور قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی گفتگو کے دوران اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر اپنی سیٹ سے اٹھ کر حکومتی رکن کی جانب بڑھے، اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر نے حکومتی رکن حسان ریاض پر حملہ کرتے ہوئے منہ پر تھپڑ مارا۔
وزیر قانون صہیب بھرتھ ، عاشق کرمانی ، معین قریشی بیچ بچائو کروانے کی کوشش کرتے رہے،قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے معاملہ کو حل کروانے کےلئے پنجاب اسمبلی کااجلاس پانچ منٹ کےلیے ملتوی کردیا، حکومتی رکن حسان ریاض پی پی 136شیخوپورہ جبکہ خالد زبیر نثار پی پی 231 وہاڑی تھری سے ہیں۔
قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی زیر صدارت حکومت و اپوزیشن ارکان کااجلاس ختم کردیا گیا، قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اپوزیشن ارکان کو ایوان میں واپس بھجوا دیا۔
قائمقام سپیکر کی سینئر حکومتی ارکان کے ساتھ مشاورت جاری ہے، سینئر حکومتی ارکان نے قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کے سامنے موقف پیش کیا کہ اپوزیشن کا یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔
نعرے بازی برداشت کی جا سکتی ہے مگر ہاتھاپائی ناقابل برداشت اور غیر جمہوری رویہ ہے۔
قائمقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے ایک بار پھر حکومت و اپوزیشن ارکان کو اپنے چیمبر میں طلب کر لیا، اپوزیشن ارکان کی جانب سے ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی، علی امتیاز وڑائچ، ندیم قریشی، فرحت عباس سپیکر چیمبر میں پیش ہوئے۔
حکومت کی جانب سے مجتبیٰ شجاع الرحمن ، صہیب بھرتھ،عاشق کرمانی، ذیشان رفیق بھی قائمقام سپیکر کے چیمبر میں موجود تھے۔
حکومتی رکن حسان ریاض اور اپوزیشن رکن خالد نثار ڈوگر نے بھی اپنے اپنے موقف قائمقام سپیکر کے سامنے پیش کئے، حکومتی رکن کی جانب سے انتہائی نازیبا الفاظ کااستعمال کیا گیا جس پر معاملہ ہاتھا پائی تک پہنچا۔