غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون قتل ، سر اور چہرے پر تشدد کے نشانات

غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون قتل ، سر اور چہرے پر تشدد کے نشانات

ویب ڈیسک: جرگے کے فیصلے پر غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کے قتل کا معاملہ ، مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا، مقتولہ کے سر اور چہرے پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے۔

تفصیلات کےمطابق   غیرت کے نام پر قتل ہونے والی سدرہ کی قبر کشائی دوران مزید حقائق سامنے آگئے, مقتولہ کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے،مقتولہ کے سر اور چہرے پر بھی تشدد کے نشانات پائے گئے، ڈاکٹر نے سدرہ کے گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق بھی کر دی .

 ذرائع  ابلاغ کے مطابق مقتولہ سدرہ کی گردن پر بھی زخم کے نشانات موجود تھے، ڈاکٹر نے سدرہ کے گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق بھی کر دی ، ڈاکٹرز نے سدرہ قتل سے متعلق ابتدائی رپورٹ تیار کرنے کا آغاز کر دیا۔ 

مقدمے میں گرفتار پانچ ملزمان کو راولپنڈی کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے عدالت سے ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، ملزمان سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے، 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے،عدالت ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس طویل میں دے دیا ۔

ملزمان میں مقتولہ کا چچا آفانی گل، والد عرب گلز بھائی ظفر اللہ، سابق شوہر ضیاء الرحمان اور جرگہ سربراہ عصمت اللہ خان شامل ہیں، ملزمان کو سول جج قمر عباس تارڑ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ 

 عدالت نے ملزمان کو یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا، ملزمان پر 19 سالہ سدرہ کے قتل، سہولت کاری اور قبر کے نشانات مٹانے کا الزام ہے۔ 

Watch Live Public News