ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خامنہ ای کی جان بچائی، مگر اس کے باوجود انہیں شکریہ تک نہ کہا گیا۔
اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے کس بنیاد پر اسرائیل کے خلاف جنگ میں کامیابی کا دعویٰ کیا، حالانکہ انہیں بھی معلوم ہے کہ یہ حقیقت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دیانت دار شخص سے جھوٹ کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
صدر ٹرمپ کے مطابق، انہیں یہ معلومات حاصل تھیں کہ ایرانی سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے تھے، لیکن انہوں نے امریکی یا اسرائیلی فوج کو اُن پر حملے کی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے ان کی زندگی بچائی، لیکن اس کے بدلے میں ایک شکریہ تک نہیں ملا۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کو عالمی برادری کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، پابندیاں نرم کرنے اور دیگر اقدامات پر غور کر رہے تھے، تاکہ ایران کو معاشی بحالی کا موقع مل سکے۔ تاہم، ایرانی قیادت کے اشتعال انگیز اور نفرت آمیز بیانات نے انہیں یہ کوشش روکنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہ کی تو اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر مزید حملے روکنے کی ڈیموکریٹک قرارداد سینیٹ میں مسترد کردی گئی۔
ری پبلکن اکثریتی سینیٹ نے قرارداد 53 کے مقابلے 47 ووٹوں سے ناکام بنا دی۔
قرارداد میں ایران پر مزید کارروائی کیلئے کانگریس کی منظوری لازم قرار دی گئی تھی، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر دوبارہ حملےسے بالکل گریز نہیں کریں گے۔
واضح رہےکہ امریکا نے ایران پر حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز قرار دیا ہے۔
سلامتی کونسل کو لکھے خط میں امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی کو اجتماعی دفاع قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت ختم کرنا ہدف تھا، ایران کے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے اور استعمال کے خطرے کو روکنا ضروری تھا، ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔