ہانگ کانگ: رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 128 افراد لقمہ اجل بن گئے

ہانگ کانگ: رہائشی عمارت میں خوفناک آتشزدگی، 128 افراد لقمہ اجل بن گئے

ویب ڈیسک: ہانگ کانگ میں کثیرالمنزلہ رہائشی کمپلیکس میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں 128 افراد ہلاک ہوگئے جب کہ 76 افراد زخمی ہیں جبکہ آگ سے متاثرہ رہائشی بلاکس کے 200 افراد لاپتہ ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہانگ کانگ کے فائر حکام نے بتایا کہ وہ جمعے تک تلاش اور ریسکیو کارروائیاں مکمل کرنے کی امید رکھتے ہیں، جب کہ شہر میں گزشتہ تقریباً 80 برسوں کی بدترین آگ نے ایک بڑے رہائشی کمپلیکس کو خاکستر کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح بھی فائر فائٹرز سلگتے ہوئے کمپلیکس میں کام جاری رکھے ہوئے ہیں، ڈپٹی فائر سروسز ڈائریکٹر ڈیریک چان نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم سات عمارتوں کے تمام یونٹس میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کہیں مزید جانی نقصان تو نہیں ہوا۔

ہانک کانگ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 7 بلاکس میں لگی آگ پر زیادہ تر قابوپالیا گیا ہے، کنسٹرکشن کمپنی کے 2 ڈائریکٹرز اور انجینئرنگ کنسلٹنٹ گرفتار کرلیے گئے ہیں۔

حکام نے تقریباً 700 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا ہے جہاں انہیں ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

آگ کا شکار ہونے والا یہ کمپلیکس 8 بلاکس پر مشتمل ہے، ہر بلاک 31 منزلہ ہے۔ مجموعی طور پر یہاں 2 ہزار کے قریب اپارٹمنٹس اور تقریباً 5 ہزار رہائشی موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ میں پیش آنے والی یہ آگ گزشتہ 50 سال کی سب سے ہلاکت خیز آتشزدگی قرار دی جا رہی ہے۔

 52 سالہ خاتون این جی نے بتایا کہ ان کے بلاک میں آگ ابتدا میں معمولی تھی مگر وقت پر قابو نہ پانے کے باعث پھیلتی چلی گئی۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ’’چھوٹی آگ پر بروقت قابو پا لیا جاتا تو شاید یہ تباہی نہ ہوتی۔ اب ہر چیز جل رہی ہے، اتنے لوگ مر گئے۔‘‘

ہانگ کانگ کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے، حکام نے آگ لگانے کے شبے میں تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

Watch Live Public News