(ویب ڈیسک) ایک بھارتی عدالت نے دو برطانوی شہریوں، حسن امان سلیم (35 سالہ، پاکستانی نژاد) اور سمترا شکیل اولیویا (61 سالہ، بھارتی نژاد، کرناٹک سے تعلق) کو روپئیڈیھا کے مقام پر بھارت- نیپال سرحد غیر قانونی طور پر عبور کرنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔
دونوں افراد نومبر 2025 میں برطانیہ سے نیپال گئے تھے تاکہ نیپال گنج کے ایک میڈیکل کالج میں سماعت سے محروم بچوں کے لیے فلاحی پروگرام میں شرکت کر سکیں۔
15 نومبر 2025 کو سشاستر سیما بل اور اتر پردیش پولیس کے اہلکاروں نے مشترکہ چیکنگ کے دوران انہیں بین الاقوامی سرحد پر بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے روک لیا۔
کچھ عرصہ جیل میں گزارنے کے بعد عدالت نے سزا سنانے کے ساتھ ہی انہیں اس شرط پر ضمانت دے دی کہ اپیل کی مدت کے دوران وہ ملک نہیں چھوڑیں گے۔
ان پر 50,000 بھارتی روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، عدم ادائیگی کی صورت میں مزید تین ماہ قید بھگتنا ہوگی۔اس کے بعد سے وہ باقاعدگی سے عدالت میں پیش ہوتے رہے اور مقدمے کے دوران زیادہ تر بہرائچ کے ہوٹلوں میں قیام کیا۔
یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی ایک فرانسیسی فلم ساز اور مصنف کو بھارت میں اسی نوعیت کے سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا۔فرانسیسی فلم ساز و مصنف ویلنٹین ہینو (10) اگست 2023 کو بزنس ویزا پر بھارت آئے تاکہ ذات پات کے مسائل پر دستاویزی فلم بنا سکیں اور ایک پُرامن دلت حقوق مارچ میں شرکت کی۔
انہیں "ویزا شرائط کی خلاف ورزی" کے الزام میں فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور تقریباً ایک ماہ گورکھپور جیل میں گزارا، جسے انہوں نے اپنی یادداشت J'avais un rêve indien: Dans l’enfer de la prison de Gorakhpur میں سخت حالات کے طور پر بیان کیا۔
کچھ رپورٹس کے مطابق ضمانت کے بعد بھی انہیں آسانی سے بھارت چھوڑنے کی اجازت نہیں ملی، جس سے سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والے غیر ملکیوں کے ساتھ بھارت میں پیش آنے والے رویے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔