(ویب ڈیسک) اسرائیلی فوجی اکثر بھارت کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں، خاص طور پر کاسول، دھرم کوٹ، گوا اور پشکر۔ یہ سفر عموماً فوجی سروس کے بعد کیا جاتا ہے، جسے اسرائیل میں “بگ ٹرپ” یا “ہمس ٹریل” کہا جاتا ہے، جہاں فوجی آرام اور ذہنی سکون کے لیے جاتے ہیں۔
بھارت اسرائیلیوں کے لیے سروس کے بعد گھومنے کی ایک بڑی جگہ ہے۔ہر سال تقریباً 30,000 سے 50,000 اسرائیلی بھارت آتے ہیں، اور بعض اوقات یہ تعداد 80,000 تک پہنچ جاتی ہے۔یہ سفر اسرائیلی نوجوانوں کے لیے ایک عام روایت ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو فوج سے فارغ ہوتے ہیں، تاکہ وہ آرام کریں اور نئی جگہیں دیکھیں۔
بھارت کے کچھ علاقوں میں اسرائیلی ثقافت واضح نظر آتی ہے۔ دھرم کوٹ کے ہاسٹلز اور کیفے میں عبرانی زبان کے بورڈ اور اسرائیلی نشانات دکھائی دیتے ہیں۔ گوا میں پارٹیز اور ریو کلچر ہے جہاں غیر ملکی سیاح، خاص طور پر اسرائیلی، آتے ہیں۔
دھرم شالہ/دھرم کوٹ کو “منی اسرائیل” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہاں اسرائیلیوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔پشکر میں کئی دکاندار تھوڑی بہت عبرانی بول لیتے ہیں اور اسرائیلی کھانے بھی ملتے ہیں۔وارانسی اور دوسرے سیاحتی شہروں میں کھانے کے مینو اسرائیلی ذوق کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔ کاسول میں کچھ کیفیز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مخصوص گاہکوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات ہیں، اور بھارت اسرائیل سے میزائل، ڈرونز اور نگرانی کے نظام بڑی مقدار میں خریدتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکن اور ناقدین کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی طریقوں کی کچھ جھلک بھارت کے کشمیر میں اقدامات میں بھی نظر آتی ہے۔
ڈرونز اور نگرانی کے نظام کا زیادہ استعمال۔
مبینہ عسکریت پسندوں کے گھروں کو گرانا۔
پیلٹ گنز، مقابلوں میں ہلاکتیں اور سخت چیک پوسٹس۔
انٹرنیٹ بند کرنا اور میڈیا پر پابندیاں لگانا۔
آرٹیکل 370 کے بعد قوانین اور آبادی میں تبدیلیاں۔
انسداد دہشت گردی میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون۔
مودی کا بھارت اور نیتن یاہو کا اسرائیل ایک جیسی اسلاموفوبک سوچ رکھتے ہیں۔