ویب ڈیسک:سینیئر صحافی حامد میر نے موجود حکومت کے وزرا یہ کہہ رہے ہیں عمران خان نے TTP کو پاکستان لا کر بسایا حقیقت میں جب TTP کےساتھ معاہدہ طے پایا تو عمران خان کی حکومت جا چکی تھی اور جب یہ سب کچھ طے پایا تو وزیراعظم شہباز شریف تھے۔
نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر صحافی حامد میر نے کہا کہ عطا تارڑ کہہ رہے ہیں کہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ( عمران خان) کو سزا دی جائے اور دوسری جانب مذاکرات کی باتیں بھی ہورہی ہیں، 26 نومبر کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران مذاکرات ہوئے تھے جس میں رانا ثنا اللہ نے پوزیٹو کردار ادا کیا، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ آج ہی عمران خان کو رہا کریں اور وہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کریں مگر وزیرداخلہ محسن نقوی راضی نہیں تھے، ن لیگ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی پراکسی ہیں۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دو مطالبات ہیں، پہلا بانی پی ٹی آئی اور سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جائے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، دوسرا وہ چاہتے ہیں اُن کا مینڈیٹ واپس کیا جائے،خواجہ سعد رفیق اور رانا ثنا اللہ کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر اتنا اعتماد ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات کئے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ریلیف کا عمران خان کو نقصان ہوگا،لیکن مسلم لیگ ن کے اندر ایک دوسرا گروپ ہے جو اس کی حمایت نہیں کرتا۔
سینیئر حامد میر نے بڑی خبر دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے وزرا یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ عمران خان تھے جنہوں نے ٹی ٹی پی کو پاکستان لا کر بسایا، یہ اتنا بڑا جھوٹ اور غلط بیانی کررہے ہیں کیونکہ اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی تھی، مئی 2022 میں شہباز شریف وزیراعظم تھے اور کورکمانڈر پشاور جنرل فیض حمید کو ایک وفد کے ساتھ کابل بھیجا گیا وہاں ٹی ٹی پی کے لوگوں کے مذاکرات کئے جب وہ واپس آئے تو ٹی ٹی پی نے سیزفائر کا اعلان کیا، اُس وقت کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو کے تحفظات تھے اور خاموشی سے مذاکرات چلتے رہے اور ستمبر 2022 تک ٹی ٹی پی کا سیزفائر چلتا رہا۔