(ویب ڈیسک ) فلسطینی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ شہید ہوگئے ہیں ۔
القسام بریگیڈز نے پیر کے روز یہ اعلان کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس نے رفح بریگیڈ کے سربراہ محمد شبانہ، اور دو دیگر رہنماؤں، حکام العیسیٰ اور رائد سعد کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی۔
اسرائیلی فوج نے مئی میں کہا تھا کہ اس نے محمد سنوار کو شہید کر دیا ہے، جو سابق حماس رہنما یحییٰ سنوار کے چھوٹے بھائی تھے۔ 3 ماہ بعد انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس نے ابو عبیدہ کو بھی مار دیا ہے۔
حماس نے تصدیق کی کہ ابو عبیدہ کا اصل نام حذیفہ الکہلوت تھا۔
واضح رہے کہ ابو عبیدہ کا آخری بیان ستمبر کے اوائل میں آیا تھا، جب اسرائیل نے غزہ سٹی پر نئی فوجی حملے کے ابتدائی مراحل شروع کیے، علاقے کو جنگی زون قرار دیا، سینکڑوں رہائشی عمارتیں تباہ کیں، اور فلسطینیوں کو بڑی تعداد میں نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔
ابو عبیدہ غزہ میں حماس کی ایک اہم آواز تھے، جو میدانِ جنگ کی صورتحال، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں، اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق بیانات جاری کرتے رہے، خاص طور پر اس سال کے اوائل میں ہونے والی مختصر جنگ بندی کے دوران، جسے اسرائیل نے یکطرفہ طور پر توڑ دیا تھا۔
محمد سنوار اور ابو عبیدہ اُن تازہ ترین حماس نمائندوں میں شامل ہیں جن کی ہلاکت کی اسرائیل نے گزشتہ 2برسوں میں تصدیق کی ہے۔ اس فہرست میں حماس کے کئی اعلیٰ فوجی اور سیاسی رہنما شامل ہیں، جن میں اعلیٰ سیاسی رہنما یحییٰ سنوار؛ فوجی کمانڈر محمد ضیف، جو 1990 کی دہائی میں القسام بریگیڈز کے بانیوں میں سے ایک تھے؛ اور سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ، جنہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید کیا گیا۔