عدالت کا ٹرمپ کی وفاقی گرانٹس،قرضے منجمد کرنے کا اقدام روکنے کا حکم

عدالت کا ٹرمپ کی وفاقی گرانٹس،قرضے منجمد کرنے کا اقدام روکنے کا حکم
کیپشن: عدالت کا ٹرمپ کی وفاقی گرانٹس،قرضے منجمد کرنے کا اقدام روکنے کا حکم

ویب ڈیسک: امریکی وفاقی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وفاقی گرانٹس اور قرضے منجمد کرنے کے اقدام کو روک دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس فیصلے سے حکومت میں پیدا ہونے والی کنفوژن ختم ہوگئی ہے، جو اس اقدام کے باعث شدید قانونی اور مالیاتی بحران کا شکار ہوسکتی تھی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی رقم کے کنٹرول پر آئینی تنازعہ پیدا ہونے کا خدشہ تھا، کیونکہ وفاقی گرانٹس اور قرضے مقامی حکومتوں، اسکولوں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔

یہ حکم نامہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب اس صدارتی اقدام پر عمل درآمد چند منٹ بعد شروع ہونا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس عدالتی فیصلے سے حکومتی اداروں کو وقتی ریلیف ملا ہے، تاہم اس معاملے پر مزید قانونی جنگ کا امکان موجود ہے۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے تمام وفاقی گرانٹس اور قرضوں کو روکنے کا حکم دیا تھا۔وائٹ ہاؤس آفس آف مینجمنٹ اور بجٹ کے قائم مقام ڈائریکٹر میتھیو ویتھ نے میمورنڈم میں کہا کہ وفاقی ایجنسیوں "تمام وفاقی   گرانٹس یا تقسیم سے متعلق تمام سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دے۔اس کے علاوہ  نئی گرانٹس کے اجراء کو بھی روک دیا گیا ہے۔

میمو میں  واضح  کیا گیا تھا کہ  اس کا اثر  سوشل سیکیورٹی یا میڈیکیئر کے فوائد،  اور  "افراد کو براہ راست فراہم کردہ امداد"   پر نہیں ہوگا۔

وفاقی امداد پر پابندی شام 5 بجے سے نافذ العمل ہو گی۔  یہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی فنڈنگ ​​پر کنٹرول کے لیے تازہ ترین اقدام  تھا۔

میمو کے مطابق، بجٹ آفس "وفاقی ایجنسیوں کو  کیس کی بنیاد پر نئے   گرانٹس جاری کرنے یا دیگر اقدامات کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔

میمو میں ایجنسیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ 10 فروری تک "کسی بھی پروگرام، پروجیکٹ یا سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات او ایم بی ( OMB )کو جمع کرائیں۔

Watch Live Public News