ویب ڈیسک :امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقرر کردہ وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری نے ٹک ٹاک کا مواد بنانے والے تخلیق کاروں اور پوڈ کاسٹرز کو وائٹ ہاؤس کے پریس کارڈ کے حصول کی دعوت دی ہے تاکہ روزانہ ہونے والی بریفنگ کی کوریج کر سکیں۔انہوں نے اپنے بیان میں دوٹوک پیغام دیا ہے کہ انہیں میڈیا کی ضرورت نہیں بلکہ ٹوئٹر ایکٹوسٹ کو ترجیح دی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوِٹ نے پہلی پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں سوشل میڈیا کانٹیٹ کریئٹرز کے لیے سب سے اگلی قطار میں نشستیں مختص کرنے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی کوریج کے لیے اب آپ کو کسی نیوز ایجنسی کے لئے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ یوٹیوب X یا کسی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایکٹو ہیں اور لوگ آپ کو سنتے ہیں تو آپ وائٹ ہاؤس کوریج کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔
بریفنگ کے دوران کیرولائن لیوِٹ نے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گیلپ سروے میں سامنے آیا ہے کہ امریکا میں شہریوں کا میڈیا کے بڑے اداروں پر اعتماد انتہائی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔ کروڑوں امریکی خاص طور پر نوجوان اب ٹیلی ویژن یا اخبارات سے خبروں کے حصول کے بجائے پوڈ کاسٹ، بلاگز، سوشل میڈیا اور دیگر آزاد ذرائع سے خود کو باخبر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں 49 نشستیں تھیں جن پر میڈیا کے مختلف بڑے اداروں کے نمائندوں کو کوریج کے لیے پاسز جاری ہوتے تھے۔ ان میں سے اکثر کے نمائندے ’وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن‘ کے رکن تھے۔
بریفنگ روم میں اگر جگہ ہو تو کھڑے ہو کر بھی کوریج کی اجازت دی جاتی ہے۔ منگل کو کیرولائن لیوِٹ کی بریفنگ میں بھی کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا اور کئی رپورٹرز کھڑے ہو کر کوریج کر رہے تھے۔
امریکا کے سب سے کم عمر پریس سیکریٹری کے طور پر تاریخ رقم کرنے والی 27 سالہ نوجوان کیرولین لیویٹ نے پہلی پریس کانفرنس میں روایتی میڈیا کو عوام کا اعتماد کھونے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہےکہ لاکھوں امریکی اصل خبروں کے لیے دوسرے آؤٹ لیٹس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا موجودہ صدر اور ان کے خاندان کے بارے میں ملک کے بہت سے میڈیا اداروں کی طرف سے جھوٹ بولا گیا اوریہ ناقابل قبول ہے۔ 'جب ہم محسوس کریں گے کہ آپ کی رپورٹنگ غلط ہے یا اس وائٹ ہاؤس کے بارے میں غلط معلومات ہوں گی تو ہم آپ کو کال کریں گے۔'
انہوں نے اعلان کیا کہ وائٹ ہاؤس کے عملے کے لیے مختص دو نشستیں اب 'نئی میڈیا' نشستیں بن جائیں گی اور وہ افراد سب سےپہلے سوالات پوچھ سکیں گے۔

یادرہے روایتی طور پر وائر سروس، ایسوسی ایٹڈ پریس کو پہلا سوال کرنے کا موقع دیا جاتا ہے - جب کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن یہ طے کرتی ہے کہ جیمز ایس بریڈی پریس بریفنگ روم میں کون سے نیوز آؤٹ لیٹس کو کون سی سیٹ ملے گی۔
اسی طرح کیرولین نے اے پی کی بجائے ، Axios کے مائیک ایلن کو پہلا سوال دیا جس کے بعد ، Breitbart کے میتھیو بوئل کو دوسرا سوال کرنے کا موقع دیا گیا ۔ یادرہے یہ دونوں روایتی میڈیا کے نمائندے نہیں تھے ۔

لیویٹ نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹرمپ 2.0 انتظامیہ 440 صحافیوں کے پریس پاسز کو بحال کرے گی جن کے پاس بائیڈن انتظامیہ نے 'غلطی سے منسوخ' کیے تھے۔
پوری بریفنگ کے دوران لیویٹ نے متعدد رپورٹرز کے سوالوں کے جواب دئیے - اے پی، کو تیسرا سوال کرنے کا موقع ملا ۔ سی این این کے کیٹلان کولنز، این بی سی کے پیٹر الیگزینڈر، نیز ڈیلی کالر کے وائٹ ہاؤس کے نمائندے ریگن ریز کو بریفنگ روم میں پچھلی نشستوں پر بٹھایا گیا تھا۔

بریفنگ کے شروع میں کیرولین نے برائن گلین سے خصوصی طورپر ملاقات کی، جو قدامت پسند آؤٹ لیٹ Real America’s Voice کے رپورٹر اور ٹرمپ کے اہم اتحادی مارجوری ٹیلر گرین کے بوائے فرینڈ ہیں۔
یادرہے لیویٹ ملک کی سب سے کم عمر پریس سیکریٹری ہیں اور اس عہدے پر فائز ہونے والی آٹھویں خاتون ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں جن چار پریس سیکرٹریوں کی خدمات حاصل کیں ان میں سے تین خواتین تھیں - سارہ ہکابی سینڈرز، جو اب آرکنساس کی گورنر ہیں، سٹیفنی گریشم اور کیلیگ میکینی۔
صدر جو بائیڈن کی دونوں پریس سیکرٹریز جین ساکی اور کیرین جین پیئر بھی خواتین تھیں -
نیو ہیمپشائر کی رہنے والی لیویٹ فاکس نیوز میں ٹرینی رپورٹر رہ چکی ہیں اور پہلی ٹرمپ انتظامیہ کے دوران وہ اسسٹنٹ پریس سیکریٹری کے طور پر میک اینی کے ماتحت کام کر چکی ہیں۔
ا نہوں نے 2022 میں کانگریس کے لیے ڈیموکریٹک نمائندے کرس پاپاس کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ لیویٹ نے ریپبلکن پرائمری جیت لی تھی لیکن عام انتخابات میں پاپاس سے ہار گئیں ۔

لیویٹ کی شادی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر نکولس ریکیو سے ہوئی ہے اور انہوں نے 2024 کی صدارتی مہم کے دوران 10 جولائی کو اپنے پہلے بچے کو جنم دیا۔