جج ہمایوں دلاور کیخلاف سوشل میڈٰیا مہم،FIAنےاختیارات کا غلط استعمال کیا،عدالت

جج ہمایوں دلاور کیخلاف سوشل میڈٰیا مہم،FIAنےاختیارات کا غلط استعمال کیا،عدالت
کیپشن: جج ہمایوں دلاور کیخلاف سوشل میڈٰیا مہم،FIAنےاختیارات کا غلط استعمال کیا،عدالت

ویب ڈیسک: جج ہمایوں دلاور کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے پی صدیق انجم کے خلاف مقدمے میں نئی پیشرفت سامنے آگئی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کی خصوصی عدالت کو ٹرائل آگے بڑھانے سے روک دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی اے نے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔ 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سے مقدمہ سے متعلقہ تمام ریکارڈ طلب کر لیا۔انکوائری کیسے شروع ہوئی اور کیسے کارروائی کی گئی؟ ڈی جی ایف آئی اے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی گئی۔

جسٹس بابر ستار نے کیس کا 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامہ جاری کر دیا۔ حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل کے مطابق درخواست گزار کی ہدایت پر جج ہمایوں دلاور اور اسکی فیملی کے خلاف مقدمہ درج کیا۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ایف آئی آر اُس مقدمہ کی جوابی کارروائی ہے۔پیکا 2016 کی سیکشن 20 عدالت نے کالعدم ہو چکی، سائبر اسٹاکنگ کے شواہد بھی موجود نہیں۔قانونی طور پر جرائم کے لیے مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت ضروری تھی، جو نہیں لی گئی۔

حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ایف آئی آر قانونی تقاضوں کے برخلاف درج کی گئی۔وکیل کے مطابق بغاوت کی سیکشن 505 کیلئے وفاقی یا صوبائی حکومت کی کمپلینٹ ضروری ہے۔درخواست گزار پر کسی کو دھمکانے یا نقصان پہنچانے کا الزام نہیں، پیکا اور پی پی سی کی دفعات لاگو نہیں ہوتیں۔وکیل نے ایف آئی اے کے دائرہ اختیار کے تجاوز کا ذکر کیا، اور اس کارروائی کو انتقامی قرار دیا۔ 

عدالت نے کیس کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کر دی۔

Watch Live Public News