پاکستان اور مضبوط معیشتوں کی شرح سود میں فرق روپے پر دباؤ ڈال رہا ہے، ایس ایم تنویر

پاکستان اور مضبوط معیشتوں کی شرح سود میں فرق روپے پر دباؤ ڈال رہا ہے، ایس ایم تنویر

(ویب ڈیسک ) ایف پی سی سی آئی کے پیٹرون انچیف ایس ایم تنویر کا کہنا ہے کہ   پاکستان اور مضبوط معیشتوں کی شرح سود میں ناقابل برداشت فرق روپے پر دباؤ ڈال رہا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں شرح سود مسلسل ان ممالک کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے جن کی کرنسیاں امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہیں، جیسے ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات۔  

انہوں نے کہا کہ اس تفاوت نے شرح سود میں ایک ناقابل برداشت فرق پیدا کر دیا ہے جو روپے پر دباؤ ڈال رہا ہے اور عوام کے لیے روزمرہ زندگی کو مزید مہنگا بنا رہا ہے۔  

ایس ایم تنویر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اقدامات کرے تاکہ معیشت کو فروغ دیا جا سکے اور عام آدمی کی مشکلات کم کی جا سکیں۔  

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں شرح سود تقریباً 4 سے 5 فیصد کے درمیان مستحکم ہے، جبکہ پاکستان کی پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے گر کر اب بھی 11 فیصد ہے، حالانکہ مہنگائی صرف 4 فیصد پر آ گئی ہے۔اس بڑے فرق نے معیشت اور عوام پر تباہ کن اثرات ڈالے ہیں۔  

ایس ایم تنویر نے کہا کہ بلند شرح سود کے باعث بچت کی قدر تیزی سے گر رہی ہے، ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں، روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں اور برآمدات عالمی سطح پر غیر مسابقتی ہو چکی ہیں۔  

انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال کھربوں روپے صرف مقامی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ کر رہی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود کو فوری طور پر 6 فیصد تک لایا جائے تاکہ مہنگائی مزید کم ہو، قرضوں پر سود کی ادائیگی میں 3.5 کھرب روپے کی بچت ہو، کاروبار ترقی کریں، روزگار پیدا ہو، روپیہ مستحکم ہو اور حقیقی ترقی و برآمدات کو فروغ ملے۔

Watch Live Public News