ویب ڈیسک: جرگے کے فیصلے پر غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کے قتل کا معاملہ، 19 سالہ سدرہ عرب کے قتل کے حوالے سے حیران کن انکشافات سامنے آ گئے۔
ذرائع ابلاغ کےمطابق مقتولہ سدرہ کو سانس بند کر کے قتل کیا گیا، مقتولہ کی گردن کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی جبکہ گردن پر زخم کے نشانات بھی موجود تھے۔
مقتولہ سدرہ کا جسم پھولا ہوا اور زبان باہر نکلی ہوئی تھی، مقتولہ کے سر اور چہرے پر بھی زخم پائے گئے،ملزمان نے مقتولہ کے ساتھ قتل کے دوران بربریت کا مظاہرہ کیا۔
عدالتی حکم پر تین رکنی میڈیکل بورڈ نے مقتولہ کا پوسٹ مارٹم گزشتہ روز مکمل کیا تھا ، میڈیکل بورڈ میں سینیئر میڈیکل افیسر ڈاکٹر مصباح الرحمن، ماچری سپروائزر عارف سلیم اور ڈسپنسر محمد سعید شامل تھے ۔
مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے پر سول عدالت میں پیش کی جائے گی۔