ویب ڈیسک: ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے تاریخی پاک بھارت فائنل کے بعد پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے میچ اور ایوارڈ تقریب دونوں پر کھل کر بات کی۔
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان آغا نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم میچ کے آخری اوورز میں توقع کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم بطور ٹیم مجموعی طور پر اچھا کھیلے، تاہم بھارت کے خلاف آخری لمحات میں ہم اپنی حکمت عملی پر قائم نہ رہ سکے۔‘‘
کپتان سلمان آغا نے اپنی ٹیم کی محنت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ٹورنامنٹ ہمارے لیے بہت سیکھنے کا موقع تھا، اور مجھے اپنی ٹیم کے جذبے پر ناز ہے۔‘‘ لیکن انہوں نے ساتھ ہی فائنل کے بعد بھارتی ٹیم کے رویے کو مایوس کن قرار دیا۔ ان کے مطابق بھارتی کھلاڑیوں کی جانب سے ٹرافی وصول نہ کرنا کھیل کے وقار اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی ہے۔ سلمان آغا نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’اگر بھارت نے ٹرافی نہیں لی تو ہم کیسے دے سکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہاتھ نہ ملانا کرکٹ کی توہین ہے، یہ رویہ کھیل کی روایات کے خلاف ہے۔ نہیں معلوم یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا، امید ہے دیگر ٹیمیں مستقبل میں ایسا طرزِ عمل نہیں اپنائیں گی۔‘‘ یاد رہے کہ بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے باعث تقریب بغیر ٹرافی ایوارڈ کے ختم کر دی گئی۔
فائنل میں بھارت نے پاکستان کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر نویں مرتبہ ایشیا کپ جیت لیا۔ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 19.1 اوورز میں 146 رنز بنائے، جس کے جواب میں بھارت نے ہدف آخری اوور میں پانچ وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا۔ تاہم فائنل کے بعد ہونے والی تقریب میں پیدا ہونے والا تنازع اس تاریخی ٹورنامنٹ کو کرکٹ کی تاریخ میں ایک تلخ یادگار بنا گیا۔