سندھ طاس معاہدہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اور معیشت سے جڑا ہے، سید مہر علی شاہ

سندھ طاس معاہدہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اور معیشت سے جڑا ہے، سید مہر علی شاہ
کیپشن: سندھ طاس معاہدہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی اور معیشت سے جڑا ہے، سید مہر علی شاہ

ویب ڈیسک: انڈس واٹر ٹریٹی ( سندھ طاس معاہدہ) کے کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام، زراعت، خوراک اور معیشت سے جڑا بنیادی معاہدہ ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے میں آبی تنازعات کے حل کے لیے واضح طریقہ کار موجود ہے، جبکہ شق 9 کے تحت اختلاف کی صورت میں معاملہ عالمی ثالثی عدالت میں بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متنازع بھارتی پن بجلی منصوبوں کے معاملات دو مرتبہ عالمی ثالثی عدالت میں لے جا چکا ہے، جہاں عدالت نے واضح کیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم۔

مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ عالمی ثالثی عدالت بھارت کو مغربی دریاؤں کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی بھی ہدایت دے چکی ہے، جبکہ بھارت کی جانب سے معاہدہ یکطرفہ معطل کرنے کی کوشش اور اگست 2023 سے بعض ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سندھ طاس معاہدے کا احترام اور اس پر مکمل عمل درآمد نہ صرف پاکستان کے آبی حقوق بلکہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

Watch Live Public News