ویب ڈیسک: سالہا سال سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ ’ بیٹا بلاکرز‘ دل کے مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی دوائیں ہیں۔ خاص طور پر ہارٹ اٹیک کے بعد انہیں لازمی علاج سمجھا جاتا تھا ،حالیہ تحقیقات نے اس پرانے تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’ بیٹا بلاکرز‘دوائیں ہر مریض کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتیں بلکہ بعض صورتوں میں نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں۔
اسپین اور اٹلی میں ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں 8,505 ایسے مریض شامل کیے گئے جنہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا لیکن ان کے دل اب بھی نارمل طریقے سے کام کر رہے تھے۔ مریضوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا، ایک گروپ کو ’ بیٹا بلاکرز‘ دی گئیں اور دوسرے کو نہیں۔
چار سال بعد نتائج سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ دونوں گروپوں میں موت، دوبارہ ہارٹ اٹیک یا دل کی ناکامی کے امکانات میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ حیران کن طور پر جن خواتین کا دل نارمل تھا اور وہ بیٹا بلاکرز استعمال کر رہی تھیں، ان میں موت اور دوبارہ دل کے مسائل کے امکانات کچھ زیادہ پائے گئے۔
اس کے برعکس سکینڈے نیویا میں ہونے والی دو بڑی تحقیقات، بیٹامی اور ڈین بلاک، نے کچھ مختلف نتائج دیے۔ ان مطالعات میں بھی ایسے مریض شامل تھے جن کا دل ہارٹ اٹیک کے باوجود کمزور نہیں ہوا تھا۔ لیکن یہاں یہ بات سامنے آئی کہ بیٹا بلاکرز استعمال کرنے والے مریضوں میں دوبارہ ہارٹ اٹیک یا بڑے دل کے مسائل ہونے کے امکانات تقریباً 15 فیصد کم تھے،ان متضاد نتائج نے ماہرین کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ ہر مریض کے لیے ایک جیسا علاج مناسب نہیں ہے۔
اگر کسی مریض کا دل ہارٹ اٹیک کے بعد کمزور ہو چکا ہو تو ’ بیٹا بلاکرز‘ اب بھی بے حد ضروری ہیں۔ لیکن اگر دل نارمل طریقے سے کام کر رہا ہو تو ان دواؤں کا فائدہ مشکوک ہے اور خواتین میں تو یہ الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہیں۔
ہارٹ اٹیک کے بعد فوری علاج، اینجیو پلاسٹی، نئی دواؤں اور آلات کی بدولت زیادہ تر مریض بہتر طریقے سے صحت یاب ہو جاتے ہیں اور دل کو زیادہ نقصان نہیں پہنچتا۔