ویب ڈیسک : پاکستانی نژاد امریکی شہری عسری حسین اس امریکی ائیرلائنز کی پرواز 5342 میں سوار تھیں جس سے امریکی فوج کا زیر تربیت بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اچانک ٹکراگیا تھا۔
عسری حسین ریاست کینساس کے شہر ویچیٹا میں کسی کام کے سلسلے میں گئی تھیں اور واپسی پر یہ ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی۔حادثے میں اہلیہ کو کھونے والے حماد رضا کا تعلق امریکا کی ریاست میزوری سے ہے۔
لواحقین کے قریبی دوست نے بتایا کہ حماد رضا کی 2 برس پہلے عسری حسین سے شادی ہوئی تھی۔ عسری کی عمر تقریباً 26 برس اور حماد کی عمر 25 برس ہے۔ دونوں انڈیانا یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔ حماد ارنسٹ اینڈ ینگ میں اکاؤنٹنٹ کے طورپر ملازم ہیں اور حماد کا کہنا ہےکہ ان کی اہلیہ جہاز کے سفر کو آرام دہ تصور نہیں کرتی تھیں۔
حماد رضا کے والد ڈاکٹر ہاشم رضا کا تعلق کراچی سے ہے ۔ وہ ڈاؤ یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں۔ ڈاکٹر ہاشم رضا ریاست میزوری کے مایہ ناز ترین ڈاکٹروں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اس وقت میزوری بیپٹیسٹ میڈیکل سینٹر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
عسری حسین کے شوہر حماد رضا نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ 30 جنوری کو رات 8 بجے کے قریب جیسے ہی طیارہ ریگن نیشنل ائیرپورٹ کے قریب پہنچا تو ان کی اہلیہ نے موبائل فون پر انہیں ٹیکسٹ میسج کیا کہ ان کا طیارہ لینڈ کرنے والا ہے۔ حماد نے جوابی پیغامات بھیجے تو وہ وصول نہیں کیے جاسکے جس کا مطلب انہوں نے یہ سمجھا کہ کوئی گڑ بڑ ہوگئی ہے۔ بدقسمتی سے عسری کا بھی یہ آخری پیغام ثابت ہوا۔

حماد رضا کے والد ہاشم رضا نے میڈیا کو بتایا کہ ’25 سالہ حماد رضا ایئرپورٹ پر اپنی اہلیہ کی آمد کا انتظار کر رہے تھے، حادثے سے قبل میسج کے بعد انہیں دوسرا کوئی میسج نہیں ملا۔‘
ہاشم رضا نے لرزتی ہوئی آواز کے ساتھ اپنے آنسو روکتے ہوئے ٹیلی فون انٹرویو میں کہا ’اسریٰ ہمارے لیے سب کچھ تھیں، اور اب میرا بیٹا 25 سال کی عمر میں اکیلا ہو گیا ہے، میں اسے کیا کہوں؟ وہ دونوں اولاد چاہتے تھے اور اس کے بہت منتظر تھے۔
ہاشم رضا نے بتایا کہ جب ان کا بیٹا اسریٰ سے پہلی بار ملا تو اس نے اعلان کیا کہ میں اس لڑکی سے شادی کرنے جا رہا ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ اسریٰ حسین نے بعد میں کولمبیا یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ واشنگٹن میں ایک کنسلٹنگ گروپ میں ملازمت کرتی تھیں اور ان کا مقصد صحت عامہ کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کے لیے کام کرنا تھا۔
اسریٰ صرف لوگوں کی مدد کرنا چاہتی تھی، اور واشنگٹن ڈی سی ان کے خیال میں، اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی بہتر جگہ تھی۔ وہ بہت اچھا کھانا بنایا کرتی تھیں یہاں تک کہ میں نے انہیں اپنا ریسٹورنٹ کھولنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسریٰ کام کی غرض سے مہینے میں ایک یا دو بار وچیٹا کا سفر کرتی تھیں۔ وہ سب کا بہت خیال رکھتی تھیں۔
