پاکستان کو امریکا سے تجارتی معاہدہ کا کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان کو امریکا سے تجارتی معاہدہ کا کیا فائدہ ہوگا؟
کیپشن: پاکستان کو امریکا سے تجارتی معاہدہ کا کیا فائدہ ہوگا؟

ویب ڈیسک: پاکستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکا نے باہمی تجارت کو فروغ دینے، منڈیوں تک رسائی بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا کرنے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ واشنگٹن ڈی سی میں ہوا، جہاں پاکستان کے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریر کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں سیکریٹری تجارت جواد پال اور امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ بھی شریک تھے۔

اس معاہدے کا باضابطہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پیغام کے ذریعے کیا۔

معاہدے کے اہم نکات میں پاکستانی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات (ٹیرف) میں خاطر خواہ کمی، توانائی، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کرپٹو کرنسی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔

معاہدے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ صرف مرکزی سطح پر نہیں بلکہ امریکی ریاستوں کی سطح پر بھی اقتصادی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ باہمی تعلقات کو مزید پائیدار بنایا جا سکے۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس معاہدے سے پاکستان کی امریکی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ ہوگا، جبکہ پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کے رجحان کو تقویت ملے گی، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان اور امریکا کے مابین تجارتی اور اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا، جو باہمی اعتماد، سرمایہ کاری اور ترقی کی نئی راہیں کھولے گا۔

Watch Live Public News