ویب ڈیسک: روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر بھارت اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بھارت کے رویے پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزیر خزانہ نے ایک انٹرویو میں کھل کر کہا کہ بھارت نے ایک ذمہ دار عالمی کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے معاشی مفادات کو ترجیح دی ہے۔
وزیر خزانہ بیسینٹ نے دعویٰ کیا کہ بھارت روس سے خام تیل خرید کر اسے ریفائن کر کے دیگر ممالک کو فروخت کرتا ہے، جو امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پوری ٹیم اور صدر ٹرمپ بھارت کے اس رویے سے سخت نالاں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا انحصار اسی رویے پر ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی دباؤ کے بعد بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریوں نے عارضی طور پر روسی تیل کی خریداری بند کر دی تھی۔ تاہم، خفیہ معاہدوں کے تحت خریداری کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئی تھیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت خام تیل درآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے، اور روسی سمندری خام تیل کا ایک بڑا خریدار بھی ہے۔ یہ تعلق ایسے وقت میں جاری ہے جب امریکہ روس پر سخت معاشی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے 14 جولائی کو واضح طور پر روس سے تیل خریدنے والے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اُن پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد بھارت کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر بھارت نے پالیسی میں تبدیلی نہ کی تو یہ اس کی عالمی ساکھ اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔